سیاسی خبریں
پنجاب میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک نافذ، مریم نواز کی ہدایت پر
بذریعہ اسد قاضی
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو منظم، شفاف اور جدید بنانے کے لیے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک نافذ کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
اس مقصد کے تحت لاہور میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سرکاری اداروں، نجی شعبے، ماہرین، ٹاؤن پلانرز، ڈویلپرز اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔
اجلاس میں پنجاب کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں یکساں نظام، ڈیجیٹل اصلاحات، آن لائن منظوری، ہاؤسنگ سکیموں کی رجسٹریشن، زمین کے ریکارڈ اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
رئیل اسٹیٹ شعبے میں شفافیت لانے کا فیصلہ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اصلاحات لانے کی واضح ہدایات دی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت کئی ماہ سے نجی شعبے اور متعلقہ اداروں سے مشاورت جاری تھی۔
انہوں نے کہا کہ نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت پنجاب بھر میں یکساں نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ ہر ضلع میں ایک ہی طرز پر منظوری، رجسٹریشن اور نگرانی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ نجی ہاؤسنگ سکیموں کے لیے جدید سافٹ ویئر سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے ذریعے مختلف مراحل کو آسان بنایا جائے گا۔
ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری اب پیپر لیس ہوگی
ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کے موجودہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
- منظوری کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا
- کاغذی کارروائی کم سے کم ہوگی
- درخواستوں کی آن لائن نگرانی ممکن ہوگی
- تاخیر اور غیر ضروری پیچیدگیوں میں کمی آئے گی
- شفافیت میں اضافہ ہوگا
- رئیل اسٹیٹ
انہوں نے مزید بتایا کہ ایل ڈی اے کے نجی ہاؤسنگ سکیم رولز میں ضروری ترامیم کر کے انہیں قانونی شکل دی جا چکی ہے۔
رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن لازمی ہوگی
ڈی جی پیلرا اکرام الحق نے اجلاس میں بتایا کہ نئے نظام کے تحت رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن، دستیاب زمین کا ریکارڈ، سکیم پلان اور آن گراؤنڈ ترقیاتی کام کی نگرانی ڈیجیٹل انداز میں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے غیر رجسٹرڈ ایجنٹس، جعلی منصوبوں اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔
ان کے مطابق حکومت ایک ایسا مرکزی نظام بنا رہی ہے جس سے شہری، سرمایہ کار اور اوورسیز پاکستانی کسی بھی منصوبے کی قانونی حیثیت آسانی سے جان سکیں گے۔
گرین سرٹیفکیٹ نظام بھی متعارف ہوگا
اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام نجی ہاؤسنگ سکیموں کو گرین سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔ اس سرٹیفکیٹ کا مقصد یہ ہوگا کہ سکیم متعلقہ قوانین، نقشہ منظوری، بنیادی سہولیات اور دیگر شرائط پر پوری اترتی ہے۔
حکام کے مطابق مستقبل میں پلاٹوں کی خرید و فروخت ایسے نظام کے ذریعے ہوگی جس سے خریدار کو زیادہ تحفظ ملے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیش رفت
حکام نے کہا کہ نئی اصلاحات سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ ماضی میں غیر منظور شدہ سکیموں، دو نمبری فائلوں اور جعلی وعدوں کی وجہ سے کئی شہری مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔
نئے نظام سے درج ذیل فوائد متوقع ہیں:
- سرمایہ کاری کا محفوظ ماحول
- منظور شدہ سکیموں تک آسان رسائی
- آن لائن معلومات کی دستیابی
- فراڈ میں کمی
- قانونی تحفظ میں اضافہ
- پراپرٹی سیکٹر میں اعتماد کی بحالی
- رئیل اسٹیٹ
فیسلیٹیشن سیل قائم کرنے کا اعلان
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈویلپرز، بلڈرز اور ہاؤسنگ سکیم مالکان کی رہنمائی کے لیے فیسلیٹیشن سیل بھی قائم کیا جائے گا۔
اس سیل کا مقصد ہوگا:
- رجسٹریشن میں مدد
- سافٹ ویئر نظام کے استعمال کی رہنمائی
- منظوری مراحل سے متعلق معلومات
- شکایات کا ازالہ
- سرمایہ کاروں کی رہنمائی
- رئیل اسٹیٹ
ماہرین اور نجی شعبے کی تجاویز شامل
مشاورتی اجلاس میں نجی شعبے کے نمائندوں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈویلپرز اور رئیل اسٹیٹ نمائندوں نے قوانین میں بہتری، فیسوں، ٹائم لائن اور عملی مسائل سے متعلق اپنی رائے دی۔
حکام نے یقین دہانی کروائی کہ قابل عمل تجاویز کو نئے نظام میں شامل کیا جائے گا تاکہ پالیسی زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔
پنجاب کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں تو پنجاب کے رئیل اسٹیٹ پراپرٹی سیکٹر میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں اس کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
اس سے:
- غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی حوصلہ شکنی ہوگی
- ریکارڈ ڈیجیٹل ہوگا
- خریداروں کو تحفظ ملے گا
- پراپرٹی کاروبار منظم ہوگا
- حکومتی ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگا
- رئیل اسٹیٹ
اجلاس کہاں منعقد ہوا؟
یہ اہم مشاورتی اجلاس لاہور کے گلبرگ میں واقع ایل ڈی اے سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوا جہاں مختلف اداروں کے افسران نے شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔
آئندہ کیا ہوگا؟
حکام کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں نئے سسٹم پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر ڈویلپرز اور نجی ہاؤسنگ سکیموں کو اس نظام پر منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد اسے پورے پنجاب میں نافذ کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ مقصد ایک ایسا رئیل اسٹیٹ نظام قائم کرنا ہے جو شفاف، محفوظ، تیز رفتار اور عوام دوست ہو۔
پنجاب پراپرٹی مارکیٹ، لاہور ہاؤسنگ سکیم اپڈیٹس، رئیل اسٹیٹ قوانین، سرمایہ کاری خبریں
سیاسی خبریں
منکی پوکس سندھ: صورتحال تشویشناک
منکی پوکس سندھ میں تیزی سے پھیلنے لگا ہے جہاں اب تک 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 25 کیسز کی باقاعدہ تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق اس وبا کے باعث 10 سے زائد اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
نئے کیسز کی تصدیق

منکی پوکس سندھ کے حوالے سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر کیسز ضلع خیرپور سے رپورٹ ہو رہے ہیں، جہاں سب سے زیادہ متاثرہ افراد موجود ہیں۔
سکھر ڈویژن کی صورتحال
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سکھر ڈویژن میں مجموعی طور پر 74 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:
- خیرپور: 51 کیسز
- سکھر: 21 کیسز
- گھوٹکی: 2 کیسز
لیبارٹری رپورٹس کے مطابق خیرپور کے 18 اور سکھر کے 3 بچوں میں منکی پوکس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اسپتال اور آئسولیشن اقدامات

منکی پوکس سندھ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے:
- خیرپور میں 9 بچے اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں
- سکھر میں 3 بچے زیر علاج
- گھوٹکی میں 1 بچہ اسپتال میں
جبکہ دیگر متاثرہ بچوں کو گھروں میں آئسولیٹ کر کے نگرانی کی جا رہی ہے۔
صوبے بھر کی مجموعی صورتحال

محکمہ صحت سندھ کے جاری اعلامیے کے مطابق:
- 122 مشتبہ کیسز رپورٹ
- 25 کیسز کی تصدیق
- سب سے زیادہ 18 کیسز خیرپور سے
- سکھر سے 3 کیسز
- کراچی سے 4 کیسز رپورٹ
ماہرین کی تشویش
ماہرین صحت کے مطابق منکی پوکس سندھ میں تیزی سے پھیل سکتا ہے اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں۔ خاص طور پر بچوں میں اس وائرس کی موجودگی باعث تشویش قرار دی جا رہی ہے۔
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
ماہرین نے عوام کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:
- متاثرہ افراد سے فاصلہ رکھیں
- صفائی کا خاص خیال رکھیں
- علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
- بچوں کو غیر ضروری باہر جانے سے روکیں
نتیجہ
منکی پوکس سندھ کی موجودہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اگرچہ حکام نے اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم عوامی تعاون کے بغیر اس وبا پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔
سیاسی خبریں
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس: عدالت میں اہم سماعت
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت میں سی ڈی اے (کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے مؤقف پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے کچی آبادیوں کی مسماری اور بے دخلی کے معاملے پر تفصیلی دلائل سنے اور پالیسی پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
وکیل فیصل صدیقی کے دلائل
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس میں متاثرین کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کی 1995 سے اب تک کی ہاؤسنگ پالیسیز میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ کسی رعایت یا ہمدردی کی اپیل نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2001 اور 2016 کی پالیسیوں کے باوجود کچی آبادیوں کے مکینوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے، جو کہ قانون اور پالیسی دونوں کے خلاف ہے۔
عدالت کے سوالات

سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ اگر پالیسی موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اصل مسئلہ پالیسی پر عملدرآمد کا ہے، جو عدالتی احکامات کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
سی ڈی اے کا مؤقف

کچی آبادیاں اسلام آباد کیس میں سی ڈی اے کے وکیل قاسم چوہان نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے نام پر دی گئی زمین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد ایک ہی خاندان کے لیے متعدد گھروں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کچی آبادیوں کو خالی کرانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
آبادی اور زمینی حقائق
فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ کچی آبادیوں میں چار لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مطابق ماسٹر پلان میں بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی ایک بڑی آبادی ان بستیوں میں رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2016 کے بعد سے اب تک کوئی نئی جامع پالیسی نہیں بنائی جا سکی، جبکہ دوسری جانب کچی آبادیاں مسمار کی جا رہی ہیں۔
سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ چیئرمین کی تبدیلی کے باعث پالیسی سازی کا عمل متاثر ہوا۔ تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بورڈ اجلاس میں کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی منظور کر لی جائے گی۔
عدالت کا فیصلہ
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس میں عدالت نے سی ڈی اے کو پالیسی بنانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ معاملے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
عوامی اہمیت اور اثرات
یہ کیس اسلام آباد کے ہزاروں خاندانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر واضح اور مؤثر پالیسی نہ بنائی گئی تو بے دخلی اور قانونی تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس ایک اہم قانونی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے، جس میں عدالت، حکومت اور شہریوں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ آئندہ سماعت میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
سیاسی خبریں
پاکستان: بنانے والوں سے چلانے والوں تک
پاکستان کی سیاسی و ریاستی تاریخ کا مطالعہ اگر محض واقعاتی تسلسل کے بجائے ایک تہہ دار جیوپولیٹکل اور سماجی تجزیے کے طور پر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس ریاست کی تشکیل اور اس کے بعد اس کی سمت کے تعین میں دو بنیادی طبقات کے درمیان ایک مسلسل اور گہرا تضاد کارفرما رہا ہے۔ یہ تضاد صرف اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ تصورِ ریاست، نظریہ، تربیت، اور عملیت کے درمیان ایک بنیادی تقسیم کا اظہار ہے، جس نے رفتہ رفتہ پاکستان کے داخلی و خارجی بحرانوں کو جنم دیا۔

برصغیر میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے دوران وہ طبقہ جو سب سے زیادہ متحرک، منظم اور نظریاتی طور پر ہم آہنگ تھا، وہ اہلسنت والجماعت کا طبقہ تھا۔ یہی وہ لوگ تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد کو تقویت دینے کے لیے برطانوی ہندوستان کے مشرق و مغرب میں “سنی کانفرنسز” کا انعقاد کر رہے تھے، اور عوامی سطح پر ایک ایسے بیانیے کو فروغ دے رہے تھے جس کی بنیاد اسلامی شناخت اور جداگانہ قومیت کے تصور پر تھی۔ اس کے برعکس، کانگرسی ملا اور بعض دیگر طبقات قیامِ پاکستان کی مخالفت میں نہ صرف سرگرم تھے بلکہ فکری اور عملی سطح پر اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے تھے۔
تاہم، جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اقتدار کی منتقلی ایک ایسے انداز میں ہوئی جس نے اس جدوجہد کی روح کو ریاستی ڈھانچے میں منتقل ہونے سے روک دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ، جو قیامِ پاکستان کی سیاسی قیادت کا مرکز تھی، اس نے خود کو ایک “مقدس گائے” کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا اور ریاستی اقتدار کو ایک فطری استحقاق کے طور پر اختیار کرنا چاہا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ مسلم لیگ ایک ایسی جماعت تھی جس کے تقریباً 99 فیصد اراکین نے کبھی کسی سطح پر ریاستی نظم و نسق کی عملی ذمہ داریاں ادا نہیں کی تھیں۔ وہ ایک سیاسی تحریک کے کارکن تو تھے، مگر ایک ریاست کو چلانے کے لیے درکار انتظامی مہارت، ادارہ جاتی فہم، اور حکمرانی کا تجربہ ان کے پاس موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب، پاکستان کے قیام کے وقت جو طبقہ عملی طور پر ریاستی ڈھانچے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ سول اور ملٹری بیوروکریسی پر مشتمل تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو برطانوی ہندوستان کے تحت ایک منظم، سخت، اور سامراجی نظم کے اندر تربیت یافتہ تھے۔ ان کی تربیت کا بنیادی مقصد عوام یا عوامی نمائندوں کی خدمت نہیں بلکہ برطانوی سامراج کے مفادات کا تحفظ اور اس کے سامنے سرنگوں رہنا تھا۔ چنانچہ جب پاکستان قائم ہوا تو ایک عجیب تضاد پیدا ہوا: سیاسی طبقات کے پاس نظریہ، جذباتی وابستگی، اور شخصیات سے عقیدت تو تھی، مگر ریاستی عملیت کی صلاحیت نہیں تھی؛ جبکہ بیوروکریسی کے پاس عملیت، نظم، اور طاقت تھی، مگر وہ نظریۂ پاکستان سے یا تو ناواقف تھی یا اس سے کوئی حقیقی وابستگی نہیں رکھتی تھی۔
یہی وہ نقطۂ آغاز تھا جہاں سے “پاکستان بنانے والے” اور “پاکستان چلانے والے” دو الگ دھاروں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے قربانیاں دے کر ریاست قائم کی، مگر جلد ہی اقتدار اور اختیار کے تمام ذرائع سے بےدخل کر دیے گئے۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے ریاست کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالی، مگر ان کی فکری اور تربیتی بنیادیں سامراجی نظم سے جڑی ہوئی تھیں، جو وقت کے ساتھ ان کی عادت بلکہ فطرتِ ثانیہ بن چکی تھیں۔
قائداعظم محمد علی جناح کے وصال کے بعد یہ عمل مزید تیز ہو گیا۔ مسلم لیگ کے اندر اختیارات بتدریج انہی طبقات کے زیرِ اثر نمائندگان تک منتقل ہو گئے جو سول و ملٹری بیوروکریسی کے فیض یافتہ تھے۔ نتیجتاً، مسلم لیگ اپنی نظریاتی اور تنظیمی بنیادوں سے محروم ہو کر آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور مختلف ذیلی قومی سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہو گئی۔ جو کچھ باقی بچا، وہ صرف “مسلم لیگ” کا نام تھا، جبکہ اس کے اندر موجود حقیقی قوت وہ افراد تھے جو بیوروکریسی کو تقویت دینے والے تھے۔
اس تمام عمل کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنی قربانیوں سے مضبوط کیا تھا، انہیں حکومتی، قانونی، اور انتظامی ڈھانچوں سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔ یوں قیامِ پاکستان کے ابتدائی چند سالوں میں ہی ایک واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا گیا: ایک طرف “پاکستان بنانے والے”، جو ہر قسم کی طاقت اور اختیار سے محروم ہو چکے تھے؛ اور دوسری طرف “پاکستان چلانے والے”، جن کے پاس طاقت بھی تھی اور وہی سامراجی تربیت بھی جو ان کے طرزِ حکمرانی کو متعین کرتی تھی۔

آج پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے، اس کے پس منظر میں یہی تاریخی تقسیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ “پاکستان بنانے والوں” کی باقیات کا بھی اس میں ایک محدود کردار ہے—اس حد تک کہ انہوں نے یا تو اپنی شناخت کو کبھی مکمل طور پر پہچانا نہیں، یا اگر پہچانا تو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خود کو منظم نہ کر سکے۔ اس کے برعکس، وہ سیکولر نیشنل ازم میں مدغم ہوتے گئے، اور بسا اوقات انہی قوتوں کی تقدیس کے نعرے بلند کرتے رہے جو درحقیقت ان کے سیاسی و نظریاتی زوال کا سبب تھیں، جبکہ دوسری جانب ریاست کے ساتھ وفاداری کو نظریۂ پاکستان کی تقدیس کے مترادف سمجھتے رہے۔
ادھر “پاکستان چلانے والوں” نے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت “پاکستان بنانے والوں” کی تمام تر سیاسی اور نظریاتی قوتوں کو بتدریج ختم کر دیا۔ یہ عمل صرف سیاسی محرومی تک محدود نہ رہا بلکہ وقت کے ساتھ یہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اختلافِ رائے کا جواب گولی کے استعمال سے دیا جانے لگا۔ تحریک ختمِ نبوت 1953 سے لے کر سانحہ مریدکے 2025 تک، ایک ایسا تسلسل نظر آتا ہے جس میں “پاکستان بنانے والوں” کا خون مسلسل بےقیمت بہتا رہا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ریاستی سطح پر تکثیریتی اور متنوع نظریات کو نہ صرف جگہ دی گئی بلکہ انہیں باقاعدہ طور پر مقتدر بنایا گیا۔ مختلف لابیوں کو پاور شیئرنگ کے نظام میں شامل کر کے انہیں ریاستی وسائل اور اثر و رسوخ تک رسائی دی گئی، اور ان کی حمایت کو ایک سیاسی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً، آج صورتحال یہ ہے کہ “پاکستان بنانے والوں” کی کوئی سنوائی نہیں، جبکہ “پاکستان چلانے والوں” سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، جو حالیہ برسوں میں زیادہ واضح ہوا ہے۔ “پاکستان چلانے والوں” نے جن مختلف لابیوں کو تقویت دی، ان میں سے دو خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ایک لابی نظریاتی طور پر ایران کے ساتھ زیادہ وابستگی رکھتی ہے، جبکہ دوسری لابی اسرائیل اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے زیادہ ہم آہنگ “یہودی چربہ” ہے۔ پہلی لابی سیاسی اور انتظامی حلقوں میں مضبوط اثر رکھتی ہے، جبکہ دوسری لابی پالیسی سازی، خصوصاً معاشی اور خارجہ پالیسی کے ڈیزائن میں گہرے اثرات رکھتی ہے۔
داخلی سطح پر بھی پاکستان کی وحدت مختلف دباؤ کا شکار ہے۔ خیبر پختونخوا میں عوام ایک جنگی نفسیات کے زیرِ اثر ہیں اور ان کی وفاداریاں پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں۔ سندھ میں سیکولر قومیت کے رجحانات نمایاں ہیں۔ اگر پاکستان کے ساتھ کوئی مضبوط جذباتی وابستگی باقی ہے تو وہ زیادہ تر پنجاب کے سماجی و تاریخی تناظر میں نظر آتی ہے—وہ خطہ جہاںمجدد الف ثانی، علامہ اقبال، اور علامہ خادم حسین رضوی جیسی اہم دینی و فکری شخصیات مدفون ہیں اور جہاں ایک مخصوص تہذیبی تسلسل پایا جاتا ہے۔
ان تمام عوامل کے تناظر میں، عالمی جیوپولیٹکل صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک لابی یہ چاہتی ہے کہ پاکستان فوری طور پر اس جنگ میں شامل ہو، اسے “ارضِ حرمین” کے دفاع کا رنگ دے، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔ مگر دوسری ایران سے اعتقاد رکھنے والی لابی کی مزاحمت اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے اور داخلی سطح پر شدید تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “پاکستان چلانے والوں” کو اپنی ہی بنائی ہوئی قوتوں کے تضادات کا سامنا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف کسی فیصلہ کن کامیابی کے لیے زمینی جنگ ناگزیر ہو سکتی ہے، اور بلوچستان ایک ایسا اسٹریٹجک مقام ہے جہاں سے اس توازن کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں براہِ راست فریق بنایا جائے، اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن کے نتیجے میں ایران پاکستان کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور ہو جائے۔
اگر پاکستان اپنی افواج کو ارضِ حرمین کے دفاع کے نام پر تعینات کرتا ہے، یا ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی کرتا ہے، تو دونوں صورتوں میں ایک ایسا ردعمل پیدا ہو سکتا ہے جو پاکستان کی سرزمین تک پہنچے۔ یہی ردعمل “پاکستان چلانے والوں” کے لیے ایک ایسا بیانیہ فراہم کرے گا جس کے ذریعے وہ داخلی سطح پر مخالف لابیوں کو کچل سکیں، اور یوں ملک مکمل طور پر جنگ کی حالت میں داخل ہو جائے گا۔
یہ تمام صورتحال محض سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ تاریخی و فطری عمل کا اظہار ہے، جس میں مختلف قوتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ یہ وہ “شکنجہ” ہے جو بتدریج تنگ ہو رہا ہے، اور جس سے نکلنا آسان نہیں دکھائی دیتا۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آ سکتا ہے، وہ محض الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، مگر اتنا واضح ہے کہ موجودہ نظام شدید دباؤ میں ہے اور ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ لہٰذا اب سوال صرف یہ نہیں کہ آگے کیا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کون اس تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
فطرت لہو ترنگ ہے غافل، نہ جل ترنگ۔
تحریر اسامہ زاہد
-
کاروباری خبریں3 weeks agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں4 weeks agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
-
تفریح4 weeks agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں1 month agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
سیاسی خبریں4 weeks agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
کھیلوں کی خبریں2 weeks agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں2 weeks agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
ٹیکنالوجی2 weeks agoپاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تیاری، توانائی بچت اور ہائبرڈ ورکنگ پالیسی متوقع