سیاسی خبریں

پنجاب میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک نافذ، مریم نواز کی ہدایت پر

Published

on

لاہور میں رئیل اسٹیٹ اجلاس، پنجاب میں ہاؤسنگ سکیم رجسٹریشن اور ڈیجیٹل منظوری نظام پر بریفنگ۔

بذریعہ اسد قاضی

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو منظم، شفاف اور جدید بنانے کے لیے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک نافذ کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

اس مقصد کے تحت لاہور میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سرکاری اداروں، نجی شعبے، ماہرین، ٹاؤن پلانرز، ڈویلپرز اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔

اجلاس میں پنجاب کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں یکساں نظام، ڈیجیٹل اصلاحات، آن لائن منظوری، ہاؤسنگ سکیموں کی رجسٹریشن، زمین کے ریکارڈ اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

رئیل اسٹیٹ شعبے میں شفافیت لانے کا فیصلہ

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اصلاحات لانے کی واضح ہدایات دی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت کئی ماہ سے نجی شعبے اور متعلقہ اداروں سے مشاورت جاری تھی۔

انہوں نے کہا کہ نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت پنجاب بھر میں یکساں نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ ہر ضلع میں ایک ہی طرز پر منظوری، رجسٹریشن اور نگرانی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ نجی ہاؤسنگ سکیموں کے لیے جدید سافٹ ویئر سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے ذریعے مختلف مراحل کو آسان بنایا جائے گا۔

ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری اب پیپر لیس ہوگی

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کے موجودہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

  • منظوری کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا
  • کاغذی کارروائی کم سے کم ہوگی
  • درخواستوں کی آن لائن نگرانی ممکن ہوگی
  • تاخیر اور غیر ضروری پیچیدگیوں میں کمی آئے گی
  • شفافیت میں اضافہ ہوگا
  • رئیل اسٹیٹ

انہوں نے مزید بتایا کہ ایل ڈی اے کے نجی ہاؤسنگ سکیم رولز میں ضروری ترامیم کر کے انہیں قانونی شکل دی جا چکی ہے۔

رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن لازمی ہوگی

ڈی جی پیلرا اکرام الحق نے اجلاس میں بتایا کہ نئے نظام کے تحت رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن، دستیاب زمین کا ریکارڈ، سکیم پلان اور آن گراؤنڈ ترقیاتی کام کی نگرانی ڈیجیٹل انداز میں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے غیر رجسٹرڈ ایجنٹس، جعلی منصوبوں اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔

ان کے مطابق حکومت ایک ایسا مرکزی نظام بنا رہی ہے جس سے شہری، سرمایہ کار اور اوورسیز پاکستانی کسی بھی منصوبے کی قانونی حیثیت آسانی سے جان سکیں گے۔

گرین سرٹیفکیٹ نظام بھی متعارف ہوگا

اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام نجی ہاؤسنگ سکیموں کو گرین سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔ اس سرٹیفکیٹ کا مقصد یہ ہوگا کہ سکیم متعلقہ قوانین، نقشہ منظوری، بنیادی سہولیات اور دیگر شرائط پر پوری اترتی ہے۔

حکام کے مطابق مستقبل میں پلاٹوں کی خرید و فروخت ایسے نظام کے ذریعے ہوگی جس سے خریدار کو زیادہ تحفظ ملے گا۔

اوورسیز پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیش رفت

حکام نے کہا کہ نئی اصلاحات سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ ماضی میں غیر منظور شدہ سکیموں، دو نمبری فائلوں اور جعلی وعدوں کی وجہ سے کئی شہری مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔

نئے نظام سے درج ذیل فوائد متوقع ہیں:

  • سرمایہ کاری کا محفوظ ماحول
  • منظور شدہ سکیموں تک آسان رسائی
  • آن لائن معلومات کی دستیابی
  • فراڈ میں کمی
  • قانونی تحفظ میں اضافہ
  • پراپرٹی سیکٹر میں اعتماد کی بحالی
  • رئیل اسٹیٹ

فیسلیٹیشن سیل قائم کرنے کا اعلان

اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈویلپرز، بلڈرز اور ہاؤسنگ سکیم مالکان کی رہنمائی کے لیے فیسلیٹیشن سیل بھی قائم کیا جائے گا۔

اس سیل کا مقصد ہوگا:

  • رجسٹریشن میں مدد
  • سافٹ ویئر نظام کے استعمال کی رہنمائی
  • منظوری مراحل سے متعلق معلومات
  • شکایات کا ازالہ
  • سرمایہ کاروں کی رہنمائی
  • رئیل اسٹیٹ

ماہرین اور نجی شعبے کی تجاویز شامل

مشاورتی اجلاس میں نجی شعبے کے نمائندوں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈویلپرز اور رئیل اسٹیٹ نمائندوں نے قوانین میں بہتری، فیسوں، ٹائم لائن اور عملی مسائل سے متعلق اپنی رائے دی۔

حکام نے یقین دہانی کروائی کہ قابل عمل تجاویز کو نئے نظام میں شامل کیا جائے گا تاکہ پالیسی زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔

پنجاب کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں تو پنجاب کے رئیل اسٹیٹ پراپرٹی سیکٹر میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں اس کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

اس سے:

  • غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی حوصلہ شکنی ہوگی
  • ریکارڈ ڈیجیٹل ہوگا
  • خریداروں کو تحفظ ملے گا
  • پراپرٹی کاروبار منظم ہوگا
  • حکومتی ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگا
  • رئیل اسٹیٹ

اجلاس کہاں منعقد ہوا؟

یہ اہم مشاورتی اجلاس لاہور کے گلبرگ میں واقع ایل ڈی اے سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوا جہاں مختلف اداروں کے افسران نے شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

آئندہ کیا ہوگا؟

حکام کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں نئے سسٹم پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر ڈویلپرز اور نجی ہاؤسنگ سکیموں کو اس نظام پر منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد اسے پورے پنجاب میں نافذ کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ مقصد ایک ایسا رئیل اسٹیٹ نظام قائم کرنا ہے جو شفاف، محفوظ، تیز رفتار اور عوام دوست ہو۔

پنجاب پراپرٹی مارکیٹ، لاہور ہاؤسنگ سکیم اپڈیٹس، رئیل اسٹیٹ قوانین، سرمایہ کاری خبریں

سیاسی خبریں

بلاول کی شہباز سے ملاقات، پاکستان کی سفارتکاری سراہی

Published

on

بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیراعظم آفس اسلام آباد میں ملاقات 17 جون 2026

از اسامہ زاہد

وزیراعظم آفس میں اہم ملاقات

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کا دورہ کیا اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔

سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر بھی چیئرمین پیپلز پارٹی کے ہمراہ اس ملاقات میں شریک تھے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین

بلاول بھٹو زرداری نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کا سفارتی کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے۔

سیاسی اور ملکی امور پر تبادلہ خیال

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاست اور قومی معاملات سے جڑے متعدد موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔

بجٹ اور وفاق و صوبوں کے تعاون پر اتفاق

ملاقات میں بجٹ سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رہے گا۔

گلگت بلتستان میں حمایت پر شکریہ

بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں تعاون فراہم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔

یہ اقدام دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اجلاس میں شریک اہم شخصیات

اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ بھی موجود تھے۔

تمام اہم وزراء کی موجودگی اس ملاقات کی سیاسی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

گلگت بلتستان حکومت سازی: پیپلز پارٹی کی حمایت کا پس منظر

Continue Reading

سیاسی خبریں

سیالکوٹ ایئرپورٹ: جعلی بیلجیئن ویزا کیس میں FIA کی بڑی کارروائی

Published

on

ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ ایئرپورٹ پر جعلی بیلجیئن ویزا اور پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ پکڑا گیا مسافر

از اسامہ زاہد

امیگریشن کلیئرنس کے دوران مسافر آف لوڈ

ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیلجیئم جانے والے ایک مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ پکڑ لیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رہائشی ثناء اللہ کو پرواز FZ-338 کے ذریعے بیلجیئم روانگی سے قبل امیگریشن کلیئرنس کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا۔

جعلی پاسپورٹ اور ویزا اسٹیکر کی نشاندہی

سیکنڈ لائن بارڈر کنٹرول آفس میں جانچ پڑتال کے دوران مسافر کا پاکستانی پاسپورٹ، بیلجیئن ویزا اسٹیکر اور ای پروٹیکٹر جعلی اور جعل سازی شدہ قرار دیے گئے۔ جدید آلات کی مدد سے جعلی پاکستانی پاسپورٹ نمبر CF2745853 کی نشاندہی کی گئی، جس پر بیلجیئن ویزا اور ای پروٹیکٹر بھی جعلی پائے گئے۔

ایجنٹ نے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا

تحقیقات کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ اٹلی میں مقیم ایجنٹ علی مظفر نے بیلجیئم ورک ویزا دلوانے کے نام پر اس سے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایجنٹ تک رسائی مسافر کے اٹلی میں مقیم رشتہ دار عبدالرحمان کے ذریعے کارروائی ہوئی۔

تقریباً 55 لاکھ روپے کی ادائیگی

مسافر کے بیان کے مطابق مختلف بینک ٹرانزیکشنز اور رقوم کی منتقلی کے ذریعے ایجنٹ کو تقریباً 55 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس کے بدلے ایجنٹ نے جعلی پاکستانی پاسپورٹ، جعلی بیلجیئن ویزا، جعلی ای پروٹیکٹر اور فضائی ٹکٹ فراہم کیا۔

انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب

اس واقعے سے بیرون ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کو جعلی ویزوں اور سفری دستاویزات کے ذریعے لوٹنے والے ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن کی بروقت کارروائی کے باعث مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔

مسافر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے

مسافر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل سیالکوٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انسانی اسمگلنگ، ویزا فراڈ اور دستاویزی جعل سازی میں ملوث ایجنٹس، اکاؤنٹ ہولڈرز اور دیگر سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

شہریوں کے لیے ایف آئی اے کی وارننگ

ایف آئی اے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جعلی ویزا اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبر: ایف آئی اے کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف ملک گیر کارروائیاں

Continue Reading

سیاسی خبریں

خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت

Published

on

خلیل ككرا سمندری میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کی تقریب کے دوران رانا فاروق سعید خان کے ہمراہ

از اسامہ زاہد

سمندری، پنجاب سمندری کی سیاسی و سماجی شخصیت خلیل ککرا نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پی پی پی کا حصہ بن کر نئے سیاسی سفر کا آغاز کر دیا۔

بڑے سیاسی اجتماع میں شمولیت کا اعلان

سمندری میں ایک بڑے سیاسی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں کارکنوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تقریب میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان سمیت پارٹی کے مقامی و ضلعی عہدیداران بھی موجود تھے۔

شرکاء نے خلیل ككرا اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کو پارٹی کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔

رانا فاروق سعید خان کا خطاب

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا فاروق سعید خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور عام آدمی کے حقوق کی علمبردار جماعت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

رانا فاروق نے اعتماد ظاہر کیا کہ خلیل ككرا جیسے متحرک کارکنوں کی شمولیت سے آئندہ انتخابات میں سمندری میں پارٹی کو بہتر نتائج ملیں گے۔

خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑنے کی وجہ بیان

خلیل ككرا نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے پی ایم ایل-این کے لیے طویل عرصہ خدمات انجام دیں، تاہم پارٹی میں نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی عزت و اہمیت کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

خلیل ككرا نے بتایا کہ یہ فیصلہ اپنے ساتھیوں کے مشورے سے کیا گیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔

اہم شخصیات اور ادارے

شخصیت / ادارہکردار
خلیل ككراسمندری کی سیاسی شخصیت، سابق پی ایم ایل-این، اب پی پی پی
رانا فاروق سعید خانسابق وفاقی وزیر، مرکزی رہنما پی پی پی
بلاول بھٹو زرداریچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی
پی ایم ایل-اینوہ جماعت جسے خلیل ككرا نے خیرباد کہا
پاکستان پیپلز پارٹینئی سیاسی جماعت
سمندریتقریب کا مقام، ضلع فیصل آباد
 رانا فاروق سعید خان کا سمندری دورہ اور پارٹی تنظیم سازی

Continue Reading

Trending