سیاسی خبریں
بلاول بھٹو زرداری کی عبدالرحمان کانجو کے گھر آمد، والدہ کے انتقال پرغم
از اسامہ زاہد
اسلام آباد میں سیاسی و سماجی شخصیات کی تعزیتی ملاقات
اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر مملکت برائے توانائی و عوامی امور عبدالرحمان خان کانجو کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کی والدہ کے انتقال پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
یہ تعزیتی ملاقات منسٹر انکلیو میں ہوئی جہاں مختلف سیاسی شخصیات، قریبی رفقا اور اہل خانہ بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سوگوار خاندان سے ملاقات کے دوران مرحومہ کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی۔
اس موقع پر رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی بھی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ تھے۔ دونوں رہنماؤں نے عبدالرحمان کانجو اور ان کے خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ والدہ کا انتقال ایک ایسا صدمہ ہے جس کا خلا کبھی مکمل طور پر پُر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور حوصلے کی دعا بھی کی۔
سیاسی قیادت کی جانب سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار

پاکستان کی سیاسی روایات میں تعزیتی ملاقاتوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ سیاسی اختلافات کے باوجود مختلف جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کے غم میں شریک ہو کر انسانی ہمدردی اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کی یہ آمد بھی اسی روایت کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے جہاں ایک سیاسی رہنما نے اپنے ساتھی اور ان کے خاندان کے دکھ میں شرکت کی۔
تعزیتی ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے عبدالرحمان کانجو سے مرحومہ کی زندگی اور خاندان کے بارے میں گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں نہایت سنجیدہ اور غمگین ماحول دیکھنے میں آیا جبکہ موجود افراد نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔
فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت
بلاول بھٹو زرداری نے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر و استقامت دے۔ اس موقع پر قاسم گیلانی سمیت دیگر موجود شخصیات نے بھی دعا میں شرکت کی۔
سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا معاشرتی اقدار کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غم کی گھڑی میں خاندانوں کو حوصلہ دینا قومی اور سماجی ذمہ داری بھی سمجھی جاتی ہے۔
عبدالرحمان کانجو کی سیاسی خدمات
عبدالرحمان خان کانجو کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو مختلف عوامی امور میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بطور وزیر مملکت انہوں نے توانائی اور عوامی خدمات سے متعلق مختلف معاملات میں حکومتی سطح پر اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔
ان کی والدہ کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا۔
متعدد سیاسی شخصیات نے فون کالز، پیغامات اور ملاقاتوں کے ذریعے عبدالرحمان کانجو سے تعزیت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی مختلف افراد نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور خاندان کے لیے صبر کی دعا کی۔
پاکستانی سیاست میں تعزیتی روایات کی اہمیت

پاکستانی معاشرے میں تعزیت اور ہمدردی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ سیاسی رہنما اکثر ذاتی دکھ اور غم کے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف انسانی تعلقات کو مضبوط بناتی ہے بلکہ سیاسی برداشت اور باہمی احترام کو بھی فروغ دیتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے مواقع سیاستدانوں کے نرم اور انسانی پہلو کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ عوامی نمائندے جب مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو اس سے معاشرے میں مثبت پیغام جاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی عبدالرحمان کانجو کے گھر آمد کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
منسٹر انکلیو میں سوگ کا ماحول
اسلام آباد کے منسٹر انکلیو میں واقع عبدالرحمان کانجو کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما، سرکاری حکام اور قریبی عزیز و اقارب سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے رہے۔
ملاقات کے دوران نہایت سنجیدہ ماحول دیکھنے میں آیا جبکہ آنے والے مہمانوں نے مرحومہ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کچھ وقت خاندان کے ساتھ گزارا اور ان کے غم میں برابر کے شریک رہے۔
عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا پر اظہار افسوس
مرحومہ کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مختلف صارفین نے عبدالرحمان کانجو اور ان کے خاندان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔ کئی سیاسی کارکنوں اور عوامی شخصیات نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تعزیتی ملاقاتیں سیاسی ماحول میں نرم رویے اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہیں۔ لوگوں نے بلاول بھٹو زرداری اور قاسم گیلانی کی آمد کو ایک مثبت اور انسانی اقدام قرار دیا۔
قومی سیاست میں انسانی اقدار کی جھلک
پاکستانی سیاست میں اگرچہ سیاسی اختلافات عام ہیں، تاہم غم اور دکھ کے مواقع پر اکثر سیاسی قیادت ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ یہی رویہ معاشرتی ہم آہنگی اور برداشت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی عبدالرحمان کانجو سے تعزیت بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر انسانی ہمدردی کو ترجیح دی گئی۔ اس ملاقات نے نہ صرف سوگوار خاندان کو حوصلہ دیا بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ایک مثبت پیغام چھوڑا۔
/بلاول-بھٹو-کی-عبدالرحمان-کانجو-سے-تعزیت-اسلام-آباد
سیاسی خبریں
بلاول کی شہباز سے ملاقات، پاکستان کی سفارتکاری سراہی
از اسامہ زاہد
وزیراعظم آفس میں اہم ملاقات
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کا دورہ کیا اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر بھی چیئرمین پیپلز پارٹی کے ہمراہ اس ملاقات میں شریک تھے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین
بلاول بھٹو زرداری نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کا سفارتی کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے۔
سیاسی اور ملکی امور پر تبادلہ خیال
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاست اور قومی معاملات سے جڑے متعدد موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔
بجٹ اور وفاق و صوبوں کے تعاون پر اتفاق
ملاقات میں بجٹ سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رہے گا۔
گلگت بلتستان میں حمایت پر شکریہ
بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں تعاون فراہم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔
یہ اقدام دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں شریک اہم شخصیات
اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ بھی موجود تھے۔
تمام اہم وزراء کی موجودگی اس ملاقات کی سیاسی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
گلگت بلتستان حکومت سازی: پیپلز پارٹی کی حمایت کا پس منظر
سیاسی خبریں
سیالکوٹ ایئرپورٹ: جعلی بیلجیئن ویزا کیس میں FIA کی بڑی کارروائی
از اسامہ زاہد
امیگریشن کلیئرنس کے دوران مسافر آف لوڈ
ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیلجیئم جانے والے ایک مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ پکڑ لیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رہائشی ثناء اللہ کو پرواز FZ-338 کے ذریعے بیلجیئم روانگی سے قبل امیگریشن کلیئرنس کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا۔
جعلی پاسپورٹ اور ویزا اسٹیکر کی نشاندہی
سیکنڈ لائن بارڈر کنٹرول آفس میں جانچ پڑتال کے دوران مسافر کا پاکستانی پاسپورٹ، بیلجیئن ویزا اسٹیکر اور ای پروٹیکٹر جعلی اور جعل سازی شدہ قرار دیے گئے۔ جدید آلات کی مدد سے جعلی پاکستانی پاسپورٹ نمبر CF2745853 کی نشاندہی کی گئی، جس پر بیلجیئن ویزا اور ای پروٹیکٹر بھی جعلی پائے گئے۔
ایجنٹ نے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا
تحقیقات کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ اٹلی میں مقیم ایجنٹ علی مظفر نے بیلجیئم ورک ویزا دلوانے کے نام پر اس سے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایجنٹ تک رسائی مسافر کے اٹلی میں مقیم رشتہ دار عبدالرحمان کے ذریعے کارروائی ہوئی۔
تقریباً 55 لاکھ روپے کی ادائیگی
مسافر کے بیان کے مطابق مختلف بینک ٹرانزیکشنز اور رقوم کی منتقلی کے ذریعے ایجنٹ کو تقریباً 55 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس کے بدلے ایجنٹ نے جعلی پاکستانی پاسپورٹ، جعلی بیلجیئن ویزا، جعلی ای پروٹیکٹر اور فضائی ٹکٹ فراہم کیا۔
انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب
اس واقعے سے بیرون ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کو جعلی ویزوں اور سفری دستاویزات کے ذریعے لوٹنے والے ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن کی بروقت کارروائی کے باعث مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔
مسافر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے
مسافر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل سیالکوٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انسانی اسمگلنگ، ویزا فراڈ اور دستاویزی جعل سازی میں ملوث ایجنٹس، اکاؤنٹ ہولڈرز اور دیگر سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کے لیے ایف آئی اے کی وارننگ
ایف آئی اے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جعلی ویزا اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
متعلقہ خبر: ایف آئی اے کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف ملک گیر کارروائیاں
سیاسی خبریں
خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت
از اسامہ زاہد
سمندری، پنجاب سمندری کی سیاسی و سماجی شخصیت خلیل ککرا نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پی پی پی کا حصہ بن کر نئے سیاسی سفر کا آغاز کر دیا۔
بڑے سیاسی اجتماع میں شمولیت کا اعلان
سمندری میں ایک بڑے سیاسی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں کارکنوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان سمیت پارٹی کے مقامی و ضلعی عہدیداران بھی موجود تھے۔
شرکاء نے خلیل ككرا اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کو پارٹی کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔
رانا فاروق سعید خان کا خطاب
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا فاروق سعید خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور عام آدمی کے حقوق کی علمبردار جماعت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
رانا فاروق نے اعتماد ظاہر کیا کہ خلیل ككرا جیسے متحرک کارکنوں کی شمولیت سے آئندہ انتخابات میں سمندری میں پارٹی کو بہتر نتائج ملیں گے۔
خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑنے کی وجہ بیان
خلیل ككرا نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے پی ایم ایل-این کے لیے طویل عرصہ خدمات انجام دیں، تاہم پارٹی میں نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی عزت و اہمیت کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
خلیل ككرا نے بتایا کہ یہ فیصلہ اپنے ساتھیوں کے مشورے سے کیا گیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔
اہم شخصیات اور ادارے
| شخصیت / ادارہ | کردار |
|---|---|
| خلیل ككرا | سمندری کی سیاسی شخصیت، سابق پی ایم ایل-این، اب پی پی پی |
| رانا فاروق سعید خان | سابق وفاقی وزیر، مرکزی رہنما پی پی پی |
| بلاول بھٹو زرداری | چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی |
| پی ایم ایل-این | وہ جماعت جسے خلیل ككرا نے خیرباد کہا |
| پاکستان پیپلز پارٹی | نئی سیاسی جماعت |
| سمندری | تقریب کا مقام، ضلع فیصل آباد |
رانا فاروق سعید خان کا سمندری دورہ اور پارٹی تنظیم سازی
-
صحت2 months agoپاکستان میں ہیپاٹائٹس سی: تشویشناک صورتحال
-
کاروباری خبریں3 months agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں3 months agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
تفریح3 months agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں3 months agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
کھیلوں کی خبریں3 months agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں3 months agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
سیاسی خبریں3 months agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا