سیاسی خبریں
پاکستان: بنانے والوں سے چلانے والوں تک
پاکستان کی سیاسی و ریاستی تاریخ کا مطالعہ اگر محض واقعاتی تسلسل کے بجائے ایک تہہ دار جیوپولیٹکل اور سماجی تجزیے کے طور پر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس ریاست کی تشکیل اور اس کے بعد اس کی سمت کے تعین میں دو بنیادی طبقات کے درمیان ایک مسلسل اور گہرا تضاد کارفرما رہا ہے۔ یہ تضاد صرف اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ تصورِ ریاست، نظریہ، تربیت، اور عملیت کے درمیان ایک بنیادی تقسیم کا اظہار ہے، جس نے رفتہ رفتہ پاکستان کے داخلی و خارجی بحرانوں کو جنم دیا۔

برصغیر میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے دوران وہ طبقہ جو سب سے زیادہ متحرک، منظم اور نظریاتی طور پر ہم آہنگ تھا، وہ اہلسنت والجماعت کا طبقہ تھا۔ یہی وہ لوگ تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد کو تقویت دینے کے لیے برطانوی ہندوستان کے مشرق و مغرب میں “سنی کانفرنسز” کا انعقاد کر رہے تھے، اور عوامی سطح پر ایک ایسے بیانیے کو فروغ دے رہے تھے جس کی بنیاد اسلامی شناخت اور جداگانہ قومیت کے تصور پر تھی۔ اس کے برعکس، کانگرسی ملا اور بعض دیگر طبقات قیامِ پاکستان کی مخالفت میں نہ صرف سرگرم تھے بلکہ فکری اور عملی سطح پر اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے تھے۔
تاہم، جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اقتدار کی منتقلی ایک ایسے انداز میں ہوئی جس نے اس جدوجہد کی روح کو ریاستی ڈھانچے میں منتقل ہونے سے روک دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ، جو قیامِ پاکستان کی سیاسی قیادت کا مرکز تھی، اس نے خود کو ایک “مقدس گائے” کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا اور ریاستی اقتدار کو ایک فطری استحقاق کے طور پر اختیار کرنا چاہا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ مسلم لیگ ایک ایسی جماعت تھی جس کے تقریباً 99 فیصد اراکین نے کبھی کسی سطح پر ریاستی نظم و نسق کی عملی ذمہ داریاں ادا نہیں کی تھیں۔ وہ ایک سیاسی تحریک کے کارکن تو تھے، مگر ایک ریاست کو چلانے کے لیے درکار انتظامی مہارت، ادارہ جاتی فہم، اور حکمرانی کا تجربہ ان کے پاس موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب، پاکستان کے قیام کے وقت جو طبقہ عملی طور پر ریاستی ڈھانچے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ سول اور ملٹری بیوروکریسی پر مشتمل تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو برطانوی ہندوستان کے تحت ایک منظم، سخت، اور سامراجی نظم کے اندر تربیت یافتہ تھے۔ ان کی تربیت کا بنیادی مقصد عوام یا عوامی نمائندوں کی خدمت نہیں بلکہ برطانوی سامراج کے مفادات کا تحفظ اور اس کے سامنے سرنگوں رہنا تھا۔ چنانچہ جب پاکستان قائم ہوا تو ایک عجیب تضاد پیدا ہوا: سیاسی طبقات کے پاس نظریہ، جذباتی وابستگی، اور شخصیات سے عقیدت تو تھی، مگر ریاستی عملیت کی صلاحیت نہیں تھی؛ جبکہ بیوروکریسی کے پاس عملیت، نظم، اور طاقت تھی، مگر وہ نظریۂ پاکستان سے یا تو ناواقف تھی یا اس سے کوئی حقیقی وابستگی نہیں رکھتی تھی۔
یہی وہ نقطۂ آغاز تھا جہاں سے “پاکستان بنانے والے” اور “پاکستان چلانے والے” دو الگ دھاروں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے قربانیاں دے کر ریاست قائم کی، مگر جلد ہی اقتدار اور اختیار کے تمام ذرائع سے بےدخل کر دیے گئے۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے ریاست کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالی، مگر ان کی فکری اور تربیتی بنیادیں سامراجی نظم سے جڑی ہوئی تھیں، جو وقت کے ساتھ ان کی عادت بلکہ فطرتِ ثانیہ بن چکی تھیں۔
قائداعظم محمد علی جناح کے وصال کے بعد یہ عمل مزید تیز ہو گیا۔ مسلم لیگ کے اندر اختیارات بتدریج انہی طبقات کے زیرِ اثر نمائندگان تک منتقل ہو گئے جو سول و ملٹری بیوروکریسی کے فیض یافتہ تھے۔ نتیجتاً، مسلم لیگ اپنی نظریاتی اور تنظیمی بنیادوں سے محروم ہو کر آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور مختلف ذیلی قومی سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہو گئی۔ جو کچھ باقی بچا، وہ صرف “مسلم لیگ” کا نام تھا، جبکہ اس کے اندر موجود حقیقی قوت وہ افراد تھے جو بیوروکریسی کو تقویت دینے والے تھے۔
اس تمام عمل کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنی قربانیوں سے مضبوط کیا تھا، انہیں حکومتی، قانونی، اور انتظامی ڈھانچوں سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔ یوں قیامِ پاکستان کے ابتدائی چند سالوں میں ہی ایک واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا گیا: ایک طرف “پاکستان بنانے والے”، جو ہر قسم کی طاقت اور اختیار سے محروم ہو چکے تھے؛ اور دوسری طرف “پاکستان چلانے والے”، جن کے پاس طاقت بھی تھی اور وہی سامراجی تربیت بھی جو ان کے طرزِ حکمرانی کو متعین کرتی تھی۔

آج پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے، اس کے پس منظر میں یہی تاریخی تقسیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ “پاکستان بنانے والوں” کی باقیات کا بھی اس میں ایک محدود کردار ہے—اس حد تک کہ انہوں نے یا تو اپنی شناخت کو کبھی مکمل طور پر پہچانا نہیں، یا اگر پہچانا تو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خود کو منظم نہ کر سکے۔ اس کے برعکس، وہ سیکولر نیشنل ازم میں مدغم ہوتے گئے، اور بسا اوقات انہی قوتوں کی تقدیس کے نعرے بلند کرتے رہے جو درحقیقت ان کے سیاسی و نظریاتی زوال کا سبب تھیں، جبکہ دوسری جانب ریاست کے ساتھ وفاداری کو نظریۂ پاکستان کی تقدیس کے مترادف سمجھتے رہے۔
ادھر “پاکستان چلانے والوں” نے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت “پاکستان بنانے والوں” کی تمام تر سیاسی اور نظریاتی قوتوں کو بتدریج ختم کر دیا۔ یہ عمل صرف سیاسی محرومی تک محدود نہ رہا بلکہ وقت کے ساتھ یہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اختلافِ رائے کا جواب گولی کے استعمال سے دیا جانے لگا۔ تحریک ختمِ نبوت 1953 سے لے کر سانحہ مریدکے 2025 تک، ایک ایسا تسلسل نظر آتا ہے جس میں “پاکستان بنانے والوں” کا خون مسلسل بےقیمت بہتا رہا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ریاستی سطح پر تکثیریتی اور متنوع نظریات کو نہ صرف جگہ دی گئی بلکہ انہیں باقاعدہ طور پر مقتدر بنایا گیا۔ مختلف لابیوں کو پاور شیئرنگ کے نظام میں شامل کر کے انہیں ریاستی وسائل اور اثر و رسوخ تک رسائی دی گئی، اور ان کی حمایت کو ایک سیاسی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً، آج صورتحال یہ ہے کہ “پاکستان بنانے والوں” کی کوئی سنوائی نہیں، جبکہ “پاکستان چلانے والوں” سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، جو حالیہ برسوں میں زیادہ واضح ہوا ہے۔ “پاکستان چلانے والوں” نے جن مختلف لابیوں کو تقویت دی، ان میں سے دو خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ایک لابی نظریاتی طور پر ایران کے ساتھ زیادہ وابستگی رکھتی ہے، جبکہ دوسری لابی اسرائیل اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے زیادہ ہم آہنگ “یہودی چربہ” ہے۔ پہلی لابی سیاسی اور انتظامی حلقوں میں مضبوط اثر رکھتی ہے، جبکہ دوسری لابی پالیسی سازی، خصوصاً معاشی اور خارجہ پالیسی کے ڈیزائن میں گہرے اثرات رکھتی ہے۔
داخلی سطح پر بھی پاکستان کی وحدت مختلف دباؤ کا شکار ہے۔ خیبر پختونخوا میں عوام ایک جنگی نفسیات کے زیرِ اثر ہیں اور ان کی وفاداریاں پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں۔ سندھ میں سیکولر قومیت کے رجحانات نمایاں ہیں۔ اگر پاکستان کے ساتھ کوئی مضبوط جذباتی وابستگی باقی ہے تو وہ زیادہ تر پنجاب کے سماجی و تاریخی تناظر میں نظر آتی ہے—وہ خطہ جہاںمجدد الف ثانی، علامہ اقبال، اور علامہ خادم حسین رضوی جیسی اہم دینی و فکری شخصیات مدفون ہیں اور جہاں ایک مخصوص تہذیبی تسلسل پایا جاتا ہے۔
ان تمام عوامل کے تناظر میں، عالمی جیوپولیٹکل صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک لابی یہ چاہتی ہے کہ پاکستان فوری طور پر اس جنگ میں شامل ہو، اسے “ارضِ حرمین” کے دفاع کا رنگ دے، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔ مگر دوسری ایران سے اعتقاد رکھنے والی لابی کی مزاحمت اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے اور داخلی سطح پر شدید تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “پاکستان چلانے والوں” کو اپنی ہی بنائی ہوئی قوتوں کے تضادات کا سامنا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف کسی فیصلہ کن کامیابی کے لیے زمینی جنگ ناگزیر ہو سکتی ہے، اور بلوچستان ایک ایسا اسٹریٹجک مقام ہے جہاں سے اس توازن کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں براہِ راست فریق بنایا جائے، اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن کے نتیجے میں ایران پاکستان کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور ہو جائے۔
اگر پاکستان اپنی افواج کو ارضِ حرمین کے دفاع کے نام پر تعینات کرتا ہے، یا ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی کرتا ہے، تو دونوں صورتوں میں ایک ایسا ردعمل پیدا ہو سکتا ہے جو پاکستان کی سرزمین تک پہنچے۔ یہی ردعمل “پاکستان چلانے والوں” کے لیے ایک ایسا بیانیہ فراہم کرے گا جس کے ذریعے وہ داخلی سطح پر مخالف لابیوں کو کچل سکیں، اور یوں ملک مکمل طور پر جنگ کی حالت میں داخل ہو جائے گا۔
یہ تمام صورتحال محض سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ تاریخی و فطری عمل کا اظہار ہے، جس میں مختلف قوتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ یہ وہ “شکنجہ” ہے جو بتدریج تنگ ہو رہا ہے، اور جس سے نکلنا آسان نہیں دکھائی دیتا۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آ سکتا ہے، وہ محض الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، مگر اتنا واضح ہے کہ موجودہ نظام شدید دباؤ میں ہے اور ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ لہٰذا اب سوال صرف یہ نہیں کہ آگے کیا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کون اس تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
فطرت لہو ترنگ ہے غافل، نہ جل ترنگ۔
تحریر اسامہ زاہد
سیاسی خبریں
بلاول کی شہباز سے ملاقات، پاکستان کی سفارتکاری سراہی
از اسامہ زاہد
وزیراعظم آفس میں اہم ملاقات
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کا دورہ کیا اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر بھی چیئرمین پیپلز پارٹی کے ہمراہ اس ملاقات میں شریک تھے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین
بلاول بھٹو زرداری نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کا سفارتی کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے۔
سیاسی اور ملکی امور پر تبادلہ خیال
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاست اور قومی معاملات سے جڑے متعدد موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔
بجٹ اور وفاق و صوبوں کے تعاون پر اتفاق
ملاقات میں بجٹ سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رہے گا۔
گلگت بلتستان میں حمایت پر شکریہ
بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں تعاون فراہم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔
یہ اقدام دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں شریک اہم شخصیات
اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ بھی موجود تھے۔
تمام اہم وزراء کی موجودگی اس ملاقات کی سیاسی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
گلگت بلتستان حکومت سازی: پیپلز پارٹی کی حمایت کا پس منظر
سیاسی خبریں
سیالکوٹ ایئرپورٹ: جعلی بیلجیئن ویزا کیس میں FIA کی بڑی کارروائی
از اسامہ زاہد
امیگریشن کلیئرنس کے دوران مسافر آف لوڈ
ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیلجیئم جانے والے ایک مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ پکڑ لیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رہائشی ثناء اللہ کو پرواز FZ-338 کے ذریعے بیلجیئم روانگی سے قبل امیگریشن کلیئرنس کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا۔
جعلی پاسپورٹ اور ویزا اسٹیکر کی نشاندہی
سیکنڈ لائن بارڈر کنٹرول آفس میں جانچ پڑتال کے دوران مسافر کا پاکستانی پاسپورٹ، بیلجیئن ویزا اسٹیکر اور ای پروٹیکٹر جعلی اور جعل سازی شدہ قرار دیے گئے۔ جدید آلات کی مدد سے جعلی پاکستانی پاسپورٹ نمبر CF2745853 کی نشاندہی کی گئی، جس پر بیلجیئن ویزا اور ای پروٹیکٹر بھی جعلی پائے گئے۔
ایجنٹ نے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا
تحقیقات کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ اٹلی میں مقیم ایجنٹ علی مظفر نے بیلجیئم ورک ویزا دلوانے کے نام پر اس سے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایجنٹ تک رسائی مسافر کے اٹلی میں مقیم رشتہ دار عبدالرحمان کے ذریعے کارروائی ہوئی۔
تقریباً 55 لاکھ روپے کی ادائیگی
مسافر کے بیان کے مطابق مختلف بینک ٹرانزیکشنز اور رقوم کی منتقلی کے ذریعے ایجنٹ کو تقریباً 55 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس کے بدلے ایجنٹ نے جعلی پاکستانی پاسپورٹ، جعلی بیلجیئن ویزا، جعلی ای پروٹیکٹر اور فضائی ٹکٹ فراہم کیا۔
انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب
اس واقعے سے بیرون ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کو جعلی ویزوں اور سفری دستاویزات کے ذریعے لوٹنے والے ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن کی بروقت کارروائی کے باعث مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔
مسافر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے
مسافر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل سیالکوٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انسانی اسمگلنگ، ویزا فراڈ اور دستاویزی جعل سازی میں ملوث ایجنٹس، اکاؤنٹ ہولڈرز اور دیگر سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کے لیے ایف آئی اے کی وارننگ
ایف آئی اے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جعلی ویزا اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
متعلقہ خبر: ایف آئی اے کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف ملک گیر کارروائیاں
سیاسی خبریں
خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت
از اسامہ زاہد
سمندری، پنجاب سمندری کی سیاسی و سماجی شخصیت خلیل ککرا نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پی پی پی کا حصہ بن کر نئے سیاسی سفر کا آغاز کر دیا۔
بڑے سیاسی اجتماع میں شمولیت کا اعلان
سمندری میں ایک بڑے سیاسی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں کارکنوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان سمیت پارٹی کے مقامی و ضلعی عہدیداران بھی موجود تھے۔
شرکاء نے خلیل ككرا اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کو پارٹی کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔
رانا فاروق سعید خان کا خطاب
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا فاروق سعید خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور عام آدمی کے حقوق کی علمبردار جماعت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
رانا فاروق نے اعتماد ظاہر کیا کہ خلیل ككرا جیسے متحرک کارکنوں کی شمولیت سے آئندہ انتخابات میں سمندری میں پارٹی کو بہتر نتائج ملیں گے۔
خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑنے کی وجہ بیان
خلیل ككرا نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے پی ایم ایل-این کے لیے طویل عرصہ خدمات انجام دیں، تاہم پارٹی میں نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی عزت و اہمیت کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
خلیل ككرا نے بتایا کہ یہ فیصلہ اپنے ساتھیوں کے مشورے سے کیا گیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔
اہم شخصیات اور ادارے
| شخصیت / ادارہ | کردار |
|---|---|
| خلیل ككرا | سمندری کی سیاسی شخصیت، سابق پی ایم ایل-این، اب پی پی پی |
| رانا فاروق سعید خان | سابق وفاقی وزیر، مرکزی رہنما پی پی پی |
| بلاول بھٹو زرداری | چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی |
| پی ایم ایل-این | وہ جماعت جسے خلیل ككرا نے خیرباد کہا |
| پاکستان پیپلز پارٹی | نئی سیاسی جماعت |
| سمندری | تقریب کا مقام، ضلع فیصل آباد |
رانا فاروق سعید خان کا سمندری دورہ اور پارٹی تنظیم سازی
-
صحت2 months agoپاکستان میں ہیپاٹائٹس سی: تشویشناک صورتحال
-
کاروباری خبریں3 months agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں3 months agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
تفریح3 months agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں3 months agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
کھیلوں کی خبریں3 months agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں3 months agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
سیاسی خبریں3 months agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
Pingback: پنجاب میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک نافذ، مریم نواز کی