سیاسی خبریں

پاکستان: بنانے والوں سے چلانے والوں تک

Published

on

پاکستان کی سیاسی و ریاستی تاریخ کا مطالعہ اگر محض واقعاتی تسلسل کے بجائے ایک تہہ دار جیوپولیٹکل اور سماجی تجزیے کے طور پر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس ریاست کی تشکیل اور اس کے بعد اس کی سمت کے تعین میں دو بنیادی طبقات کے درمیان ایک مسلسل اور گہرا تضاد کارفرما رہا ہے۔ یہ تضاد صرف اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ تصورِ ریاست، نظریہ، تربیت، اور عملیت کے درمیان ایک بنیادی تقسیم کا اظہار ہے، جس نے رفتہ رفتہ پاکستان کے داخلی و خارجی بحرانوں کو جنم دیا۔

برصغیر میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے دوران وہ طبقہ جو سب سے زیادہ متحرک، منظم اور نظریاتی طور پر ہم آہنگ تھا، وہ اہلسنت والجماعت کا طبقہ تھا۔ یہی وہ لوگ تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد کو تقویت دینے کے لیے برطانوی ہندوستان کے مشرق و مغرب میں “سنی کانفرنسز” کا انعقاد کر رہے تھے، اور عوامی سطح پر ایک ایسے بیانیے کو فروغ دے رہے تھے جس کی بنیاد اسلامی شناخت اور جداگانہ قومیت کے تصور پر تھی۔ اس کے برعکس، کانگرسی ملا اور بعض دیگر طبقات قیامِ پاکستان کی مخالفت میں نہ صرف سرگرم تھے بلکہ فکری اور عملی سطح پر اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے تھے۔

تاہم، جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اقتدار کی منتقلی ایک ایسے انداز میں ہوئی جس نے اس جدوجہد کی روح کو ریاستی ڈھانچے میں منتقل ہونے سے روک دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ، جو قیامِ پاکستان کی سیاسی قیادت کا مرکز تھی، اس نے خود کو ایک “مقدس گائے” کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا اور ریاستی اقتدار کو ایک فطری استحقاق کے طور پر اختیار کرنا چاہا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ مسلم لیگ ایک ایسی جماعت تھی جس کے تقریباً 99 فیصد اراکین نے کبھی کسی سطح پر ریاستی نظم و نسق کی عملی ذمہ داریاں ادا نہیں کی تھیں۔ وہ ایک سیاسی تحریک کے کارکن تو تھے، مگر ایک ریاست کو چلانے کے لیے درکار انتظامی مہارت، ادارہ جاتی فہم، اور حکمرانی کا تجربہ ان کے پاس موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب، پاکستان کے قیام کے وقت جو طبقہ عملی طور پر ریاستی ڈھانچے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ سول اور ملٹری بیوروکریسی پر مشتمل تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو برطانوی ہندوستان کے تحت ایک منظم، سخت، اور سامراجی نظم کے اندر تربیت یافتہ تھے۔ ان کی تربیت کا بنیادی مقصد عوام یا عوامی نمائندوں کی خدمت نہیں بلکہ برطانوی سامراج کے مفادات کا تحفظ اور اس کے سامنے سرنگوں رہنا تھا۔ چنانچہ جب پاکستان قائم ہوا تو ایک عجیب تضاد پیدا ہوا: سیاسی طبقات کے پاس نظریہ، جذباتی وابستگی، اور شخصیات سے عقیدت تو تھی، مگر ریاستی عملیت کی صلاحیت نہیں تھی؛ جبکہ بیوروکریسی کے پاس عملیت، نظم، اور طاقت تھی، مگر وہ نظریۂ پاکستان سے یا تو ناواقف تھی یا اس سے کوئی حقیقی وابستگی نہیں رکھتی تھی۔

یہی وہ نقطۂ آغاز تھا جہاں سے “پاکستان بنانے والے” اور “پاکستان چلانے والے” دو الگ دھاروں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے قربانیاں دے کر ریاست قائم کی، مگر جلد ہی اقتدار اور اختیار کے تمام ذرائع سے بےدخل کر دیے گئے۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے ریاست کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالی، مگر ان کی فکری اور تربیتی بنیادیں سامراجی نظم سے جڑی ہوئی تھیں، جو وقت کے ساتھ ان کی عادت بلکہ فطرتِ ثانیہ بن چکی تھیں۔

قائداعظم محمد علی جناح کے وصال کے بعد یہ عمل مزید تیز ہو گیا۔ مسلم لیگ کے اندر اختیارات بتدریج انہی طبقات کے زیرِ اثر نمائندگان تک منتقل ہو گئے جو سول و ملٹری بیوروکریسی کے فیض یافتہ تھے۔ نتیجتاً، مسلم لیگ اپنی نظریاتی اور تنظیمی بنیادوں سے محروم ہو کر آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور مختلف ذیلی قومی سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہو گئی۔ جو کچھ باقی بچا، وہ صرف “مسلم لیگ” کا نام تھا، جبکہ اس کے اندر موجود حقیقی قوت وہ افراد تھے جو بیوروکریسی کو تقویت دینے والے تھے۔

اس تمام عمل کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنی قربانیوں سے مضبوط کیا تھا، انہیں حکومتی، قانونی، اور انتظامی ڈھانچوں سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔ یوں قیامِ پاکستان کے ابتدائی چند سالوں میں ہی ایک واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا گیا: ایک طرف “پاکستان بنانے والے”، جو ہر قسم کی طاقت اور اختیار سے محروم ہو چکے تھے؛ اور دوسری طرف “پاکستان چلانے والے”، جن کے پاس طاقت بھی تھی اور وہی سامراجی تربیت بھی جو ان کے طرزِ حکمرانی کو متعین کرتی تھی۔

آج پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے، اس کے پس منظر میں یہی تاریخی تقسیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ “پاکستان بنانے والوں” کی باقیات کا بھی اس میں ایک محدود کردار ہے—اس حد تک کہ انہوں نے یا تو اپنی شناخت کو کبھی مکمل طور پر پہچانا نہیں، یا اگر پہچانا تو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خود کو منظم نہ کر سکے۔ اس کے برعکس، وہ سیکولر نیشنل ازم میں مدغم ہوتے گئے، اور بسا اوقات انہی قوتوں کی تقدیس کے نعرے بلند کرتے رہے جو درحقیقت ان کے سیاسی و نظریاتی زوال کا سبب تھیں، جبکہ دوسری جانب ریاست کے ساتھ وفاداری کو نظریۂ پاکستان کی تقدیس کے مترادف سمجھتے رہے۔

ادھر “پاکستان چلانے والوں” نے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت “پاکستان بنانے والوں” کی تمام تر سیاسی اور نظریاتی قوتوں کو بتدریج ختم کر دیا۔ یہ عمل صرف سیاسی محرومی تک محدود نہ رہا بلکہ وقت کے ساتھ یہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اختلافِ رائے کا جواب گولی کے استعمال سے دیا جانے لگا۔ تحریک ختمِ نبوت 1953 سے لے کر سانحہ مریدکے 2025 تک، ایک ایسا تسلسل نظر آتا ہے جس میں “پاکستان بنانے والوں” کا خون مسلسل بےقیمت بہتا رہا۔

اس کے ساتھ ساتھ، ریاستی سطح پر تکثیریتی اور متنوع نظریات کو نہ صرف جگہ دی گئی بلکہ انہیں باقاعدہ طور پر مقتدر بنایا گیا۔ مختلف لابیوں کو پاور شیئرنگ کے نظام میں شامل کر کے انہیں ریاستی وسائل اور اثر و رسوخ تک رسائی دی گئی، اور ان کی حمایت کو ایک سیاسی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً، آج صورتحال یہ ہے کہ “پاکستان بنانے والوں” کی کوئی سنوائی نہیں، جبکہ “پاکستان چلانے والوں” سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، جو حالیہ برسوں میں زیادہ واضح ہوا ہے۔ “پاکستان چلانے والوں” نے جن مختلف لابیوں کو تقویت دی، ان میں سے دو خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ایک لابی نظریاتی طور پر ایران کے ساتھ زیادہ وابستگی رکھتی ہے، جبکہ دوسری لابی اسرائیل اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے زیادہ ہم آہنگ “یہودی چربہ” ہے۔ پہلی لابی سیاسی اور انتظامی حلقوں میں مضبوط اثر رکھتی ہے، جبکہ دوسری لابی پالیسی سازی، خصوصاً معاشی اور خارجہ پالیسی کے ڈیزائن میں گہرے اثرات رکھتی ہے۔

داخلی سطح پر بھی پاکستان کی وحدت مختلف دباؤ کا شکار ہے۔ خیبر پختونخوا میں عوام ایک جنگی نفسیات کے زیرِ اثر ہیں اور ان کی وفاداریاں پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں۔ سندھ میں سیکولر قومیت کے رجحانات نمایاں ہیں۔ اگر پاکستان کے ساتھ کوئی مضبوط جذباتی وابستگی باقی ہے تو وہ زیادہ تر پنجاب کے سماجی و تاریخی تناظر میں نظر آتی ہے—وہ خطہ جہاںمجدد الف ثانی، علامہ اقبال، اور علامہ خادم حسین رضوی جیسی اہم دینی و فکری شخصیات مدفون ہیں اور جہاں ایک مخصوص تہذیبی تسلسل پایا جاتا ہے۔

ان تمام عوامل کے تناظر میں، عالمی جیوپولیٹکل صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک لابی یہ چاہتی ہے کہ پاکستان فوری طور پر اس جنگ میں شامل ہو، اسے “ارضِ حرمین” کے دفاع کا رنگ دے، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔ مگر دوسری ایران سے اعتقاد رکھنے والی لابی کی مزاحمت اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے اور داخلی سطح پر شدید تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “پاکستان چلانے والوں” کو اپنی ہی بنائی ہوئی قوتوں کے تضادات کا سامنا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف کسی فیصلہ کن کامیابی کے لیے زمینی جنگ ناگزیر ہو سکتی ہے، اور بلوچستان ایک ایسا اسٹریٹجک مقام ہے جہاں سے اس توازن کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں براہِ راست فریق بنایا جائے، اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن کے نتیجے میں ایران پاکستان کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور ہو جائے۔

اگر پاکستان اپنی افواج کو ارضِ حرمین کے دفاع کے نام پر تعینات کرتا ہے، یا ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی کرتا ہے، تو دونوں صورتوں میں ایک ایسا ردعمل پیدا ہو سکتا ہے جو پاکستان کی سرزمین تک پہنچے۔ یہی ردعمل “پاکستان چلانے والوں” کے لیے ایک ایسا بیانیہ فراہم کرے گا جس کے ذریعے وہ داخلی سطح پر مخالف لابیوں کو کچل سکیں، اور یوں ملک مکمل طور پر جنگ کی حالت میں داخل ہو جائے گا۔

یہ تمام صورتحال محض سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ تاریخی و فطری عمل کا اظہار ہے، جس میں مختلف قوتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ یہ وہ “شکنجہ” ہے جو بتدریج تنگ ہو رہا ہے، اور جس سے نکلنا آسان نہیں دکھائی دیتا۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آ سکتا ہے، وہ محض الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، مگر اتنا واضح ہے کہ موجودہ نظام شدید دباؤ میں ہے اور ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ لہٰذا اب سوال صرف یہ نہیں کہ آگے کیا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کون اس تبدیلی کے لیے تیار ہے۔

فطرت لہو ترنگ ہے غافل، نہ جل ترنگ۔

تحریر اسامہ زاہد

یہ بھی دیکھیں: پاکستان میں مہنگائی اور کاروباری اثرات

1 Comment

  1. Pingback: پنجاب میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک نافذ، مریم نواز کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version