سیاسی خبریں
پاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
اسلام آباد، 24 مارچ 2026 – پاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ ہے۔
پاکستان کی دفاعی پالیسی اور میزائل پروگرام
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے ہے اور یہ کسی بھی جارحانہ عزائم کا حصہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام بین البراعظمی حدِ مار سے کہیں کم ہے اور یہ صرف قابلِ اعتماد کم از کم دفاعی صلاحیت کے اصول پر قائم ہے۔
دفاعی نوعیت اور قومی سلامتی
طاہر اندرابی نے زور دیا کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں صرف ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا:
- میزائل پروگرام کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا تحفظ ہے۔
- پاکستان خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے دفاعی اقدامات کرتا ہے۔
- پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور کسی جارحانہ ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کی جاتی۔
- پاکستان
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن
پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاعی اقدامات میں شفافیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو اولین ترجیح دی ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں خطے میں توازن قائم رکھنے اور خطرات سے نمٹنے کے لیے ہیں، نہ کہ جارحانہ کارروائی کے لیے۔
امریکی بیانات کا ردعمل
تلسی گبارڈ کے بیان کے بعد پاکستان نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ ملک کی دفاعی پالیسی مکمل طور پر پرامن اور دفاعی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں غیر ضروری تشویش پیدا کرتے ہیں اور حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
خطے میں امن و استحکام کی ضرورت
پاکستان نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے دفاعی تزویرات کی ضرورت ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام کا دائرہ کم از کم دفاعی صلاحیت تک محدود ہے اور یہ کسی جارحانہ مقصد کے لیے نہیں ہے۔
پاکستان کی موقف کی وضاحت
- پاکستان کی میزائل صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی ہیں۔
- ان کا مقصد قومی خودمختاری اور سرحدوں کا تحفظ ہے۔
- پروگرام خطے میں امن قائم رکھنے اور دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے ہے۔
- پاکستان بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کے پابند ہے۔
- پاکستان
پاکستان کے اس موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک اپنی دفاعی پالیسی میں مکمل شفافیت اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا خیال رکھتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں تلسی گبارڈ کے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔
پاکستان کی دفاعی پالیسی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں
Pingback: پاکستان میں بیرونی قرضوں میں خطرناک اضافہ: 1900 ارب روپے