منکی پوکس سندھ میں تیزی سے پھیلنے لگا ہے جہاں اب تک 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 25 کیسز کی باقاعدہ تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق اس وبا کے باعث 10 سے زائد اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

نئے کیسز کی تصدیق

منکی پوکس سندھ کے حوالے سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر کیسز ضلع خیرپور سے رپورٹ ہو رہے ہیں، جہاں سب سے زیادہ متاثرہ افراد موجود ہیں۔

سکھر ڈویژن کی صورتحال

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سکھر ڈویژن میں مجموعی طور پر 74 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:

لیبارٹری رپورٹس کے مطابق خیرپور کے 18 اور سکھر کے 3 بچوں میں منکی پوکس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اسپتال اور آئسولیشن اقدامات

منکی پوکس سندھ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے:

جبکہ دیگر متاثرہ بچوں کو گھروں میں آئسولیٹ کر کے نگرانی کی جا رہی ہے۔

صوبے بھر کی مجموعی صورتحال

محکمہ صحت سندھ کے جاری اعلامیے کے مطابق:

ماہرین کی تشویش

ماہرین صحت کے مطابق منکی پوکس سندھ میں تیزی سے پھیل سکتا ہے اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں۔ خاص طور پر بچوں میں اس وائرس کی موجودگی باعث تشویش قرار دی جا رہی ہے۔

عوام کے لیے احتیاطی ہدایات

ماہرین نے عوام کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:

نتیجہ

منکی پوکس سندھ کی موجودہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اگرچہ حکام نے اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم عوامی تعاون کے بغیر اس وبا پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: مہنگائی اور عوامی مسائل کی تازہ رپورٹ

2 Responses

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *