سیاسی خبریں
منکی پوکس سندھ: صورتحال تشویشناک
منکی پوکس سندھ میں تیزی سے پھیلنے لگا ہے جہاں اب تک 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 25 کیسز کی باقاعدہ تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق اس وبا کے باعث 10 سے زائد اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
نئے کیسز کی تصدیق

منکی پوکس سندھ کے حوالے سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر کیسز ضلع خیرپور سے رپورٹ ہو رہے ہیں، جہاں سب سے زیادہ متاثرہ افراد موجود ہیں۔
سکھر ڈویژن کی صورتحال
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سکھر ڈویژن میں مجموعی طور پر 74 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:
- خیرپور: 51 کیسز
- سکھر: 21 کیسز
- گھوٹکی: 2 کیسز
لیبارٹری رپورٹس کے مطابق خیرپور کے 18 اور سکھر کے 3 بچوں میں منکی پوکس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اسپتال اور آئسولیشن اقدامات
منکی پوکس سندھ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے:
- خیرپور میں 9 بچے اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں
- سکھر میں 3 بچے زیر علاج
- گھوٹکی میں 1 بچہ اسپتال میں
جبکہ دیگر متاثرہ بچوں کو گھروں میں آئسولیٹ کر کے نگرانی کی جا رہی ہے۔
صوبے بھر کی مجموعی صورتحال
محکمہ صحت سندھ کے جاری اعلامیے کے مطابق:
- 122 مشتبہ کیسز رپورٹ
- 25 کیسز کی تصدیق
- سب سے زیادہ 18 کیسز خیرپور سے
- سکھر سے 3 کیسز
- کراچی سے 4 کیسز رپورٹ
ماہرین کی تشویش
ماہرین صحت کے مطابق منکی پوکس سندھ میں تیزی سے پھیل سکتا ہے اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں۔ خاص طور پر بچوں میں اس وائرس کی موجودگی باعث تشویش قرار دی جا رہی ہے۔
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
ماہرین نے عوام کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:
- متاثرہ افراد سے فاصلہ رکھیں
- صفائی کا خاص خیال رکھیں
- علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
- بچوں کو غیر ضروری باہر جانے سے روکیں
نتیجہ
منکی پوکس سندھ کی موجودہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اگرچہ حکام نے اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم عوامی تعاون کے بغیر اس وبا پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔