بین الاقوامی خبریں,
متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی: بڑا فیصلہ
متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی کے اعلان نے عالمی توانائی مارکیٹ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ یکم مئی سے نافذ العمل ہوگا اور اس کے اثرات عالمی تیل کی منڈی پر پڑ سکتے ہیں۔
حکومتی مؤقف اور پالیسی تبدیلی
متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی کے حوالے سے اماراتی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنظیم کے ساتھ رہتے ہوئے اہم کردار ادا کیا گیا، تاہم اب قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی پالیسی کو خودمختار انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار کو بتدریج اور متوازن انداز میں بڑھایا جائے گا تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
وزیر توانائی کا بیان

متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی پر وزیر توانائی سہیل المزروعی نے کہا کہ یہ فیصلہ توانائی اور تیل کے شعبے کا مکمل اسٹریٹجک جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی حالات، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باوجود فوری طور پر عالمی مارکیٹ پر بڑے اثرات متوقع نہیں۔
آبنائے ہرمز اور علاقائی کشیدگی
متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی زیر بحث ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ اس خطے میں بڑھتی کشیدگی توانائی کی فراہمی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے الزامات
اس پیش رفت کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دیگر ممالک پر اپنی پالیسی مسلط نہیں کر سکتا۔
خلیجی اجلاس اور عالمی ردعمل

متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی کے بعد جدہ میں خلیجی ممالک کا اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اور توانائی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے خطے کی سیاست اور معیشت پر دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔
امریکی مؤقف
امریکی میڈیا کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس پیشکش کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا اور حتمی ردعمل دینے سے گریز کیا۔
عالمی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ طویل مدت میں عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم قلیل مدت میں مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
نتیجہ
متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی ایک اہم عالمی پیش رفت ہے، جو توانائی پالیسی، علاقائی سیاست اور عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی خبریں,
ہیروشیما ایٹم بم: سائنسی حقیقت
ہیروشیما ایٹم بم انسانی تاریخ کے اُن واقعات میں شامل ہے جس نے دنیا کو ایٹمی طاقت کی اصل حقیقت سے روشناس کرایا۔ ماہرین کے مطابق اس دھماکے سے خارج ہونے والی توانائی دراصل نہایت معمولی مقدار کے مادے کے توانائی میں تبدیل ہونے سے پیدا ہوئی۔
یہ مقدار وزن میں بہت کم تھی، مگر اس کے اثرات انتہائی وسیع اور تباہ کن ثابت ہوئے۔
ایٹمی ردعمل کی طاقت

ہیروشیما ایٹم بم اس بات کی واضح مثال ہے کہ ایٹمی ردعمل میں کتنی بڑی طاقت پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایٹم ٹوٹتا ہے تو توانائی کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے، جو عام کیمیائی ردعمل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
یہی اصول جوہری توانائی کے مثبت اور منفی دونوں استعمالات کی بنیاد ہے۔
تباہی کی شدت

ہیروشیما ایٹم بم کے نتیجے میں شہر کو شدید نقصان پہنچا اور:
- بڑی تعداد میں عمارتیں تباہ ہو گئیں
- ہزاروں افراد فوری طور پر ہلاک ہوئے
- کئی افراد تابکاری کے باعث بعد میں متاثر ہوئے
- شہر کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا
یہ واقعہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہیوں میں شمار ہوتا ہے۔
سائنس کا مثبت اور منفی پہلو
ہیروشیما ایٹم بم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سائنس بذات خود نہ مثبت ہوتی ہے نہ منفی، بلکہ اس کا استعمال اسے مفید یا نقصان دہ بناتا ہے۔ جہاں ایٹمی توانائی بجلی پیدا کرنے اور طبی میدان میں مددگار ثابت ہوتی ہے، وہیں اس کا غلط استعمال تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
عالمی اثرات
ہیروشیما ایٹم بم کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے کنٹرول کے حوالے سے سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں۔ مختلف عالمی معاہدوں کے ذریعے اس خطرناک ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
نتیجہ
ہیروشیما ایٹم بم کی حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ بہت کم مقدار میں موجود مادہ بھی بے پناہ توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی انسانیت کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ سائنسی ترقی کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی خبریں,
برطانیہ میں سکھ خاتون پر مذہبی نفرت پر مبنی حملہ
بذریعہ: اسد قاضی
برطانیہ کی عدالت کا فیصلہ، مذہبی تعصب اور جنسی تشدد کا سنگین کیس
برطانیہ میں ایک سکھ خاتون کے ساتھ مذہبی نفرت پر مبنی جنسی حملے کے کیس میں عدالت نے 32 سالہ ملزم جان ایشبی کو کم از کم 14 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف برطانیہ میں مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے تشویش کا باعث بنا ہے بلکہ خواتین کے تحفظ کے بارے میں بھی سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ملزم نے متاثرہ خاتون کے گھر میں زبردستی داخل ہو کر ان پر جنسی تشدد کیا اور دورانِ حملہ ان کے مذہب کے خلاف نفرت انگیز الفاظ بھی استعمال کیے۔ عدالت نے اس واقعے کو “انتہائی سنگین اور خوفناک جرم” قرار دیا ہے۔
کیس کی تفصیلات: حملہ کیسے ہوا؟
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ ایک عام دن کے دوران پیش آیا جب متاثرہ سکھ خاتون اپنے گھر میں موجود تھیں۔ ملزم جان ایشبی زبردستی گھر میں داخل ہوا اور ان پر حملہ کیا۔
اہم نکات:
- ملزم نے گھر میں غیر قانونی طور پر داخلہ لیا
- متاثرہ خاتون کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا
- حملے کے دوران مذہبی نفرت پر مبنی زبان استعمال کی گئی
- کیس میں ملزم نے بعد میں عدالت میں جرم قبول کیا
- مذہبی
یہ پہلو اس کیس کو مزید سنگین بناتا ہے کیونکہ اس میں نہ صرف جنسی تشدد بلکہ مذہبی تعصب بھی شامل تھا۔
عدالت کا فیصلہ اور جج کے ریمارکس

سزا سناتے ہوئے جج جسٹس پیپرال نے کہا کہ ملزم کی حرکات سے معاشرے میں موجود خواتین کے لیے شدید خطرہ ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مستقبل میں یہ شخص دوبارہ ایسا جرم کرے گا یا نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
- ملزم کی جانب سے خطرناک رویہ مسلسل برقرار رہا ہے
- اس کے سابقہ جرائم بھی اس کے کردار کو ظاہر کرتے ہیں
- معاشرے کو اس سے طویل مدت تک تحفظ کی ضرورت ہے
- مذہبی
جج نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے جرائم میں سخت سزا ناگزیر ہوتی ہے تاکہ معاشرے میں واضح پیغام جائے کہ نفرت پر مبنی تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مذہبی نفرت اور معاشرتی تشویش
یہ واقعہ برطانیہ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز رویوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ سکھ کمیونٹی سمیت مختلف مذہبی گروہ پہلے بھی ایسے واقعات پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں دو اہم پہلو سامنے آتے ہیں:
- مذہبی شناخت کی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم
- خواتین کے خلاف گھریلو اور ذاتی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات
یہ دونوں مسائل مل کر معاشرتی عدم تحفظ کو بڑھا رہے ہیں۔
سکھ کمیونٹی کا ردعمل
برطانیہ میں سکھ کمیونٹی نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ افراد کے لیے تکلیف دہ ہیں بلکہ پورے معاشرے میں خوف اور بے یقینی پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
- نفرت انگیز جرائم پر مزید سخت قوانین نافذ کیے جائیں
- پولیس تحقیقات کو مزید مؤثر بنایا جائے
- مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
- مذہبی
برطانیہ میں نفرت پر مبنی جرائم کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ چند سالوں میں برطانیہ میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر مذہب، نسل اور رنگ کی بنیاد پر ہونے والے جرائم پولیس اور انسانی حقوق کے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
عام طور پر رپورٹ ہونے والے عوامل میں شامل ہیں:
- مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانا
- آن لائن اور آف لائن نفرت انگیز زبان
- خواتین کے خلاف پرتشدد جرائم
- سماجی تقسیم اور انتہاپسندی
- مذہبی
یہ رجحان حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک مسلسل توجہ طلب مسئلہ ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں سخت سزا اس لیے بھی ضروری تھی کیونکہ اس میں دو سنگین جرائم شامل تھے: جنسی تشدد اور مذہبی نفرت۔
ان کے مطابق:
- ایسے جرائم میں سزا کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ روک تھام بھی ہوتا ہے
- متاثرہ افراد کے لیے انصاف کا احساس ضروری ہے
- معاشرے میں واضح پیغام جانا چاہیے کہ نفرت پر مبنی جرائم ناقابل قبول ہیں
عوامی اور بین الاقوامی ردعمل
اس کیس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے واقعات اکثر اس بحث کو بھی جنم دیتے ہیں کہ:
- کیا موجودہ قوانین کافی ہیں؟
- کیا پولیس نفرت انگیز جرائم کو صحیح طریقے سے ہینڈل کر رہی ہے؟
- کیا متاثرہ افراد کو مکمل تحفظ حاصل ہے؟
- مذہبی
نتیجہ: سخت سزا کے باوجود سوالات باقی
اگرچہ عدالت نے ملزم کو کم از کم 14 سال قید کی سزا سنائی ہے، لیکن یہ کیس برطانیہ میں مذہبی عدم برداشت اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بڑے سوالات چھوڑ گیا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید معاشروں میں بھی نفرت، تعصب اور تشدد جیسے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ایسے کیسز سے نمٹنے کے لیے صرف قانونی کارروائی نہیں بلکہ سماجی سطح پر آگاہی اور تعلیم بھی ضروری ہے۔
برطانیہ میں سکھ خاتون پر مذہبی نفرت کیس، جان ایشبی کو 14 سال قید سزا، انسانی حقوق اور نفرت انگیز جرائم خبریں
بین الاقوامی خبریں,
آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے، متحدہ عرب امارات کا دوٹوک مؤقف
اسامہ زاہد
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ اماراتی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے توانائی، تجارت اور اقتصادی استحکام کا اہم مرکز ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، عالمی تجارتی خدشات اور توانائی سپلائی سے متعلق بے یقینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے واضح کیا کہ عالمی آبی راستے تمام ممالک کے مشترکہ مفاد کے لیے آزاد اور محفوظ ہونے چاہییں۔
واشنگٹن کانفرنس میں اہم بیان
واشنگٹن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی معاشی کانفرنس کے دوران اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے، اس لیے اس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے راستے دنیا بھر کی معیشت، تجارت اور توانائی کی روانی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان راستوں میں رکاوٹ پیدا ہو تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ اسی راستے سے خلیجی ممالک کا خام تیل، گیس اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی مجموعی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اماراتی وزیر نے بھی کہا کہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر توانائی آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور اقتصادی سرگرمیوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
صرف تیل نہیں، دیگر اشیاء بھی اہم
اگرچہ آبنائے ہرمز زیادہ تر تیل اور گیس کی ترسیل کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن اس راستے سے دیگر کئی اہم اشیاء بھی دنیا بھر میں بھیجی جاتی ہیں۔ ان میں صنعتی خام مال، خوراک، تجارتی سامان اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء شامل ہیں۔
اسی لیے اس راستے کی سلامتی صرف توانائی کے شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور معاشی استحکام کا معاملہ بھی ہے۔
خطے میں کشیدگی اور عالمی خدشات
گزشتہ کئی برسوں سے خلیجی خطے میں سیاسی کشیدگی، بحری سلامتی کے مسائل اور علاقائی تنازعات کے باعث آبنائے ہرمز بار بار عالمی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہے۔ جب بھی خطے میں تناؤ بڑھتا ہے، دنیا بھر کی نظریں اسی گزرگاہ پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز بند ہونے یا محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہو تو عالمی مارکیٹس میں فوری بے چینی دیکھی جاتی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، شپنگ انشورنس مہنگی ہو جاتی ہے اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے حالیہ بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں عالمی برادری کھلے اور محفوظ تجارتی راستوں کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کا سفارتی پیغام
ریم الہاشمی کے بیان کو صرف معاشی مؤقف نہیں بلکہ ایک سفارتی پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ امارات نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ یا علاقائی طاقت کے اظہار کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
یہ مؤقف عالمی قوانین، آزاد تجارت اور مشترکہ مفاد کے اصولوں سے ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے۔ یو اے ای نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو خطے میں استحکام، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
امریکا میں 1.4 ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان
اماراتی وزیر نے اپنے خطاب میں ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات آئندہ 10 سال کے دوران امریکا میں مزید 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
یہ اعلان یو اے ای اور امریکا کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے توانائی، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، صنعت اور مالیاتی شعبوں میں تعاون بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سطح پر لے جا سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اماراتی بیان عالمی منڈیوں کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے اور بحری راستے کھلے رہتے ہیں تو:
- تیل کی قیمتوں میں استحکام رہ سکتا ہے
- شپنگ لاگت کم رہ سکتی ہے
- سپلائی چین بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے
- سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہ سکتا ہے
- عالمی تجارت کو سہارا مل سکتا ہے
اس کے برعکس کسی بھی رکاوٹ یا کشیدگی سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک علاقائی سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی شہ رگ ہے۔ اسی لیے بڑے ممالک اور عالمی ادارے اس کی آزادی اور سلامتی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور کسی ایک خطے کا بحران پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔ اگر خطے میں سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو تجارتی سرگرمیوں میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
دوسری جانب اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو توانائی بحران، قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے مسائل دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔
نتیجہ
متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے اور یہ راستہ مکمل طور پر کھلا رہنا چاہیے۔ یہ بیان عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی حیثیت صرف ایک سمندری راستے کی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے ایک حساس مرکز کی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک چاہتے ہیں کہ یہ گزرگاہ محفوظ، آزاد اور سب کے لیے دستیاب رہے۔
متحدہ عرب امارات کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ترقی، امن اور اقتصادی استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون اور کھلے راستے ناگزیر ہیں۔
خلیجی خطے، عالمی تجارت اور توانائی سے متعلق مزید اہم خبریں یہاں پڑھیں۔
-
کاروباری خبریں2 months agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
تفریح2 months agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں2 months agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
سیاسی خبریں2 months agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
کھیلوں کی خبریں1 month agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
سیاسی خبریں2 months agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
-
کاروباری خبریں1 month agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
ٹیکنالوجی2 months agoپاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تیاری، توانائی بچت اور ہائبرڈ ورکنگ پالیسی متوقع