سیاسی خبریں
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس: عدالت میں اہم سماعت
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت میں سی ڈی اے (کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے مؤقف پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے کچی آبادیوں کی مسماری اور بے دخلی کے معاملے پر تفصیلی دلائل سنے اور پالیسی پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
وکیل فیصل صدیقی کے دلائل
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس میں متاثرین کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کی 1995 سے اب تک کی ہاؤسنگ پالیسیز میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ کسی رعایت یا ہمدردی کی اپیل نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2001 اور 2016 کی پالیسیوں کے باوجود کچی آبادیوں کے مکینوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے، جو کہ قانون اور پالیسی دونوں کے خلاف ہے۔
عدالت کے سوالات

سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ اگر پالیسی موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اصل مسئلہ پالیسی پر عملدرآمد کا ہے، جو عدالتی احکامات کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
سی ڈی اے کا مؤقف

کچی آبادیاں اسلام آباد کیس میں سی ڈی اے کے وکیل قاسم چوہان نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے نام پر دی گئی زمین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد ایک ہی خاندان کے لیے متعدد گھروں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کچی آبادیوں کو خالی کرانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
آبادی اور زمینی حقائق
فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ کچی آبادیوں میں چار لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مطابق ماسٹر پلان میں بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی ایک بڑی آبادی ان بستیوں میں رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2016 کے بعد سے اب تک کوئی نئی جامع پالیسی نہیں بنائی جا سکی، جبکہ دوسری جانب کچی آبادیاں مسمار کی جا رہی ہیں۔
سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ چیئرمین کی تبدیلی کے باعث پالیسی سازی کا عمل متاثر ہوا۔ تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بورڈ اجلاس میں کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی منظور کر لی جائے گی۔
عدالت کا فیصلہ
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس میں عدالت نے سی ڈی اے کو پالیسی بنانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ معاملے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
عوامی اہمیت اور اثرات
یہ کیس اسلام آباد کے ہزاروں خاندانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر واضح اور مؤثر پالیسی نہ بنائی گئی تو بے دخلی اور قانونی تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
کچی آبادیاں اسلام آباد کیس ایک اہم قانونی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے، جس میں عدالت، حکومت اور شہریوں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ آئندہ سماعت میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
سیاسی خبریں
بلاول کی شہباز سے ملاقات، پاکستان کی سفارتکاری سراہی
از اسامہ زاہد
وزیراعظم آفس میں اہم ملاقات
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کا دورہ کیا اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر بھی چیئرمین پیپلز پارٹی کے ہمراہ اس ملاقات میں شریک تھے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین
بلاول بھٹو زرداری نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کا سفارتی کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے۔
سیاسی اور ملکی امور پر تبادلہ خیال
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاست اور قومی معاملات سے جڑے متعدد موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔
بجٹ اور وفاق و صوبوں کے تعاون پر اتفاق
ملاقات میں بجٹ سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رہے گا۔
گلگت بلتستان میں حمایت پر شکریہ
بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں تعاون فراہم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔
یہ اقدام دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں شریک اہم شخصیات
اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ بھی موجود تھے۔
تمام اہم وزراء کی موجودگی اس ملاقات کی سیاسی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
گلگت بلتستان حکومت سازی: پیپلز پارٹی کی حمایت کا پس منظر
سیاسی خبریں
سیالکوٹ ایئرپورٹ: جعلی بیلجیئن ویزا کیس میں FIA کی بڑی کارروائی
از اسامہ زاہد
امیگریشن کلیئرنس کے دوران مسافر آف لوڈ
ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیلجیئم جانے والے ایک مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ پکڑ لیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رہائشی ثناء اللہ کو پرواز FZ-338 کے ذریعے بیلجیئم روانگی سے قبل امیگریشن کلیئرنس کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا۔
جعلی پاسپورٹ اور ویزا اسٹیکر کی نشاندہی
سیکنڈ لائن بارڈر کنٹرول آفس میں جانچ پڑتال کے دوران مسافر کا پاکستانی پاسپورٹ، بیلجیئن ویزا اسٹیکر اور ای پروٹیکٹر جعلی اور جعل سازی شدہ قرار دیے گئے۔ جدید آلات کی مدد سے جعلی پاکستانی پاسپورٹ نمبر CF2745853 کی نشاندہی کی گئی، جس پر بیلجیئن ویزا اور ای پروٹیکٹر بھی جعلی پائے گئے۔
ایجنٹ نے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا
تحقیقات کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ اٹلی میں مقیم ایجنٹ علی مظفر نے بیلجیئم ورک ویزا دلوانے کے نام پر اس سے 75 لاکھ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایجنٹ تک رسائی مسافر کے اٹلی میں مقیم رشتہ دار عبدالرحمان کے ذریعے کارروائی ہوئی۔
تقریباً 55 لاکھ روپے کی ادائیگی
مسافر کے بیان کے مطابق مختلف بینک ٹرانزیکشنز اور رقوم کی منتقلی کے ذریعے ایجنٹ کو تقریباً 55 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس کے بدلے ایجنٹ نے جعلی پاکستانی پاسپورٹ، جعلی بیلجیئن ویزا، جعلی ای پروٹیکٹر اور فضائی ٹکٹ فراہم کیا۔
انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب
اس واقعے سے بیرون ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کو جعلی ویزوں اور سفری دستاویزات کے ذریعے لوٹنے والے ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن کی بروقت کارروائی کے باعث مسافر کو جعلی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔
مسافر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے
مسافر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل سیالکوٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انسانی اسمگلنگ، ویزا فراڈ اور دستاویزی جعل سازی میں ملوث ایجنٹس، اکاؤنٹ ہولڈرز اور دیگر سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کے لیے ایف آئی اے کی وارننگ
ایف آئی اے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جعلی ویزا اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
متعلقہ خبر: ایف آئی اے کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف ملک گیر کارروائیاں
سیاسی خبریں
خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت
از اسامہ زاہد
سمندری، پنجاب سمندری کی سیاسی و سماجی شخصیت خلیل ککرا نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پی پی پی کا حصہ بن کر نئے سیاسی سفر کا آغاز کر دیا۔
بڑے سیاسی اجتماع میں شمولیت کا اعلان
سمندری میں ایک بڑے سیاسی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں کارکنوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان سمیت پارٹی کے مقامی و ضلعی عہدیداران بھی موجود تھے۔
شرکاء نے خلیل ككرا اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کو پارٹی کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔
رانا فاروق سعید خان کا خطاب
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا فاروق سعید خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور عام آدمی کے حقوق کی علمبردار جماعت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
رانا فاروق نے اعتماد ظاہر کیا کہ خلیل ككرا جیسے متحرک کارکنوں کی شمولیت سے آئندہ انتخابات میں سمندری میں پارٹی کو بہتر نتائج ملیں گے۔
خلیل ككرا کا پی ایم ایل-این چھوڑنے کی وجہ بیان
خلیل ككرا نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے پی ایم ایل-این کے لیے طویل عرصہ خدمات انجام دیں، تاہم پارٹی میں نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی عزت و اہمیت کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
خلیل ككرا نے بتایا کہ یہ فیصلہ اپنے ساتھیوں کے مشورے سے کیا گیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔
اہم شخصیات اور ادارے
| شخصیت / ادارہ | کردار |
|---|---|
| خلیل ككرا | سمندری کی سیاسی شخصیت، سابق پی ایم ایل-این، اب پی پی پی |
| رانا فاروق سعید خان | سابق وفاقی وزیر، مرکزی رہنما پی پی پی |
| بلاول بھٹو زرداری | چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی |
| پی ایم ایل-این | وہ جماعت جسے خلیل ككرا نے خیرباد کہا |
| پاکستان پیپلز پارٹی | نئی سیاسی جماعت |
| سمندری | تقریب کا مقام، ضلع فیصل آباد |
رانا فاروق سعید خان کا سمندری دورہ اور پارٹی تنظیم سازی
-
صحت2 months agoپاکستان میں ہیپاٹائٹس سی: تشویشناک صورتحال
-
کاروباری خبریں3 months agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں3 months agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
تفریح3 months agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں3 months agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
کھیلوں کی خبریں3 months agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں3 months agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
سیاسی خبریں3 months agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
Pingback: اسلام آباد ہائیکورٹ: خفیہ رپورٹ پر تعیناتی روکنا غیر قانونی