بین الاقوامی خبریں,
آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے، متحدہ عرب امارات کا دوٹوک مؤقف
اسامہ زاہد
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ اماراتی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے توانائی، تجارت اور اقتصادی استحکام کا اہم مرکز ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، عالمی تجارتی خدشات اور توانائی سپلائی سے متعلق بے یقینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے واضح کیا کہ عالمی آبی راستے تمام ممالک کے مشترکہ مفاد کے لیے آزاد اور محفوظ ہونے چاہییں۔
واشنگٹن کانفرنس میں اہم بیان
واشنگٹن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی معاشی کانفرنس کے دوران اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے، اس لیے اس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے راستے دنیا بھر کی معیشت، تجارت اور توانائی کی روانی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان راستوں میں رکاوٹ پیدا ہو تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ اسی راستے سے خلیجی ممالک کا خام تیل، گیس اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی مجموعی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اماراتی وزیر نے بھی کہا کہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر توانائی آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور اقتصادی سرگرمیوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
صرف تیل نہیں، دیگر اشیاء بھی اہم
اگرچہ آبنائے ہرمز زیادہ تر تیل اور گیس کی ترسیل کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن اس راستے سے دیگر کئی اہم اشیاء بھی دنیا بھر میں بھیجی جاتی ہیں۔ ان میں صنعتی خام مال، خوراک، تجارتی سامان اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء شامل ہیں۔
اسی لیے اس راستے کی سلامتی صرف توانائی کے شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور معاشی استحکام کا معاملہ بھی ہے۔
خطے میں کشیدگی اور عالمی خدشات
گزشتہ کئی برسوں سے خلیجی خطے میں سیاسی کشیدگی، بحری سلامتی کے مسائل اور علاقائی تنازعات کے باعث آبنائے ہرمز بار بار عالمی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہے۔ جب بھی خطے میں تناؤ بڑھتا ہے، دنیا بھر کی نظریں اسی گزرگاہ پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز بند ہونے یا محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہو تو عالمی مارکیٹس میں فوری بے چینی دیکھی جاتی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، شپنگ انشورنس مہنگی ہو جاتی ہے اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے حالیہ بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں عالمی برادری کھلے اور محفوظ تجارتی راستوں کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کا سفارتی پیغام
ریم الہاشمی کے بیان کو صرف معاشی مؤقف نہیں بلکہ ایک سفارتی پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ امارات نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ یا علاقائی طاقت کے اظہار کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
یہ مؤقف عالمی قوانین، آزاد تجارت اور مشترکہ مفاد کے اصولوں سے ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے۔ یو اے ای نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو خطے میں استحکام، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
امریکا میں 1.4 ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان
اماراتی وزیر نے اپنے خطاب میں ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات آئندہ 10 سال کے دوران امریکا میں مزید 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
یہ اعلان یو اے ای اور امریکا کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے توانائی، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، صنعت اور مالیاتی شعبوں میں تعاون بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سطح پر لے جا سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اماراتی بیان عالمی منڈیوں کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے اور بحری راستے کھلے رہتے ہیں تو:
- تیل کی قیمتوں میں استحکام رہ سکتا ہے
- شپنگ لاگت کم رہ سکتی ہے
- سپلائی چین بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے
- سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہ سکتا ہے
- عالمی تجارت کو سہارا مل سکتا ہے
اس کے برعکس کسی بھی رکاوٹ یا کشیدگی سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک علاقائی سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی شہ رگ ہے۔ اسی لیے بڑے ممالک اور عالمی ادارے اس کی آزادی اور سلامتی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور کسی ایک خطے کا بحران پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔ اگر خطے میں سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو تجارتی سرگرمیوں میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
دوسری جانب اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو توانائی بحران، قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے مسائل دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔
نتیجہ
متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے اور یہ راستہ مکمل طور پر کھلا رہنا چاہیے۔ یہ بیان عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی حیثیت صرف ایک سمندری راستے کی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے ایک حساس مرکز کی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک چاہتے ہیں کہ یہ گزرگاہ محفوظ، آزاد اور سب کے لیے دستیاب رہے۔
متحدہ عرب امارات کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ترقی، امن اور اقتصادی استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون اور کھلے راستے ناگزیر ہیں۔
خلیجی خطے، عالمی تجارت اور توانائی سے متعلق مزید اہم خبریں یہاں پڑھیں۔
-
کاروباری خبریں4 weeks agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں1 month agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
-
تفریح1 month agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں1 month agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
سیاسی خبریں1 month agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
کھیلوں کی خبریں3 weeks agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں3 weeks agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
ٹیکنالوجی3 weeks agoپاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تیاری، توانائی بچت اور ہائبرڈ ورکنگ پالیسی متوقع