عدالتی خبریں
کچہری سانحہ متاثرین کو معاوضہ، ہائی کورٹ کا حکم
از اسامہ زاہد
اسلام آباد، 17 جون 2026 اسلام آباد ہائی کورٹ نے کچہری خودکش دھماکے کے متاثرین کو معاوضہ نہ ملنے کے معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے۔ واقعے کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین ابھی تک معاوضے سے محروم ہیں۔
ایک سال گزرا، معاوضہ نہ ملا
یہ سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ آصف گجر کی درخواست پر کی۔ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر تصدق حنیف عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ سانحے کو ایک سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، لیکن متاثرین کو ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔
بیرسٹر تصدق حنیف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لائرز پروٹیکشن ایکٹ کے سیکشن 13 کے تحت متاثرین کو گریڈ 18 کا شہدا پیکج ملنا قانونی طور پر لازم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل کا موقف
عدالتی طلبی پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو جانچا جائے گا اور جلد از جلد حل کرایا جائے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مہلت دینے کی بھی استدعا کی۔
عدالت کے نوٹسز اور اگلی تاریخ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمے میں وفاق اور سیکرٹری داخلہ کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے۔ اس کے علاوہ چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بھی نوٹس بھیجے گئے۔
عدالت نے اگلی سماعت 23 جون 2026 تک ملتوی کر دی۔
سرکاری شہدا معاوضہ پالیسی خبر
عدالتی خبریں
اسلام آباد ہائیکورٹ: خفیہ رپورٹ پر تعیناتی روکنا غیر قانونی
از اسامہ زاہد
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے ایک اہم فیصلے میں حکومت کے اس اقدام کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا جس میں بیرون ملک ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی تعیناتی خفیہ ادارے کی رپورٹ کی بنیاد پر روک دی گئی تھی۔
عدالت نےخفیہ حکم دیا کہ ان افسران کو فوری طور پر تعینات کیا جائے۔
افسران کی تعیناتی کیوں روکی گئی؟
بیرون ملک تجارتی مشنز کے لیے 28 افسران کا باقاعدہ ٹیسٹ، انٹرویو اور اکیڈمی ٹریننگ کے ذریعے انتخاب عمل میں آیا۔ میرٹ لسٹ وزیرِ اعظم اور سلیکشن بورڈ سے منظور ہوئی۔ تاہم 18 افسران کو تعیناتی مل گئی جبکہ 10 افسران کو بغیر کوئی وجہ بتائے روک دیا گیا۔
وزارتِ تجارت نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے نے متعلقہ افسران کے بارے میں لکھ کر رپورٹ بھیجی، اس لیے تعیناتی معطل کر دی گئی۔
عدالت میں کیا انکشاف ہوا؟
عدالتی سماعت کے دوران وزارتِ تجارت کے حکام نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے خفیہ رپورٹ نہ پڑھی اور نہ ہی وجوہات جانیں صرف اس لیے عمل کیا کہ خفیہ ادارے نے ایسا لکھا تھا۔
یہ رپورٹ نہ عدالت کو دکھائی گئی، نہ متاثرہ افسران کو جواب کا موقع دیا گیا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا آرڈر جاری کیا گیا جس میں رپورٹ کو “کلاسیفائیڈ” قرار دیا گیا ہو۔
عدالت نے کیا کہا؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ:
- وزیرِ اعظم اور سلیکشن بورڈ کی منظور شدہ میرٹ لسٹ کو بغیر ٹھوس وجہ کے ویٹو یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
- سرکاری ملازمین کے خلاف خفیہ رپورٹس کو بغیر جواب طلبی کے استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔
- جو انتظامی فیصلہ کسی ٹھوس مواد پر مبنی نہ ہو وہ من مانا اور غیر معقول شمار ہو گا۔
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پالیسی اور سیکیورٹی معاملات میں عدلیہ کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، تاہم ساتھ ہی کہا کہ سرکاری افسران کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی عدالت کی ذمہ داری ہے۔
حتمی فیصلہ
جسٹس انعام امین منہاس نے حکومت کا تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے وزارتِ تجارت کو حکم دیا کہ تمام 10 افسران کو بلاتاخیر بیرون ملک تعینات کیا جائے۔
یہ فیصلہ خفیہ اس اعتبار سے اہم نظیر ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس کو اندھا دھند بنیاد بنا کر سرکاری ملازمین کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے شفافیت اور طریقہ کار کی پابندی لازمی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے تازہ فیصلے
-
صحت2 months agoپاکستان میں ہیپاٹائٹس سی: تشویشناک صورتحال
-
کاروباری خبریں3 months agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں3 months agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
تفریح3 months agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں3 months agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
کھیلوں کی خبریں3 months agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں3 months agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
سیاسی خبریں3 months agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا