صحت
پنجاب میں شہری و دیہی صفائی معیار بہتر بنانے کیلئے کمشنر لاہور مریم خان کے
بذریعہ سعد قاضی
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر کمشنر لاہور کا ننکانہ صاحب اور سانگلہ ہل کا تفصیلی دورہ
پنجاب حکومت نے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی، نکاسی آب، صحت اور بنیادی شہری سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے فیلڈ مانیٹرنگ تیز کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان نے ضلع ننکانہ صاحب اور تحصیل سانگلہ ہل کے مختلف شہری و دیہی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں صفائی، سیوریج، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور مون سون تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
کمشنر لاہور نے دیہات 118 چک، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، امتحانی مراکز، گرلز ہائی سکول سانگلہ ہل اور جاری سٹارم واٹر ڈرینج منصوبوں کا معائنہ کیا۔
دورے کا مقصد شہری اور دیہی علاقوں میں میونسپل سہولیات کے معیار کو یکساں بنانا اور عوامی خدمات میں بہتری لانا تھا۔
دیہی علاقوں میں صفائی اور سیوریج سسٹم پر خصوصی توجہ

دورے کے دوران کمشنر لاہور مریم خان نے دیہی علاقوں میں سیوریج نالیوں کی صفائی اور ڈی سلٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ روزانہ کی بنیاد پر نالیوں کی صفائی اور گندگی کی بروقت نکاسی یقینی بنائی جائے تاکہ بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہری علاقوں کی طرح دیہات میں بھی صفائی کا معیار بہتر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دیہی آبادی کو بھی وہی بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں جو بڑے شہروں میں فراہم کی جاتی ہیں۔
اوپن جوہڑوں کی صفائی اور ری فلنگ آپریشنز

کمشنر لاہور نے اوپن جوہڑوں کی ڈی سلٹنگ کے بعد جاری ری فلنگ آپریشنز کا بھی معائنہ کیا۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ کئی دیہی علاقوں میں پرانے جوہڑوں کی صفائی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ مزید مقامات پر کام جاری ہے۔
انتظامیہ کے مطابق:
- جوہڑوں سے گندا پانی اور مٹی نکالی جا رہی ہے
- ری فلنگ کے ذریعے زمین کو محفوظ بنایا جا رہا ہے
- بارشوں کے موسم سے قبل نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا جا رہا ہے
- ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کیلئے صفائی مہم تیز کی گئی ہے
ماہرین کے مطابق کھلے جوہڑ اور بند نالیاں دیہی علاقوں میں مچھروں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بنتی ہیں، اس لیے بروقت صفائی عوامی صحت کیلئے اہم سمجھی جاتی ہے۔
ٹی ایچ کیو ہسپتال سانگلہ ہل میں طبی سہولیات کا جائزہ
کمشنر لاہور مریم خان نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سانگلہ ہل کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے ایمرجنسی وارڈ، میل اور فی میل وارڈز سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے ہسپتال میں مفت ادویات کی فراہمی، مریضوں کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اور ڈیپ کلیننگ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ مریضوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور صفائی کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
ہسپتالوں میں صفائی اور ادویات کی دستیابی اہم مسئلہ
پنجاب کے کئی سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی اور صفائی سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے میں فیلڈ دوروں کا مقصد نہ صرف انتظامی نگرانی کو بہتر بنانا ہے بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کیلئے صفائی ضروری ہے
- ایمرجنسی وارڈز میں فوری طبی سہولتیں عوامی ضرورت ہیں
- دیہی علاقوں میں معیاری صحت سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے
کمشنر لاہور نے متعلقہ حکام کو ہسپتالوں میں روزانہ مانیٹرنگ جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
سانگلہ ہل پارک میں بلند ترین آبشار منصوبے کی ابتدائی تجویز
دورے کے دوران کمشنر لاہور نے سانگلہ ہل پارک کا بھی معائنہ کیا اور وہاں پاکستان کی بلند ترین مصنوعی آبشار بنانے کیلئے ابتدائی پلاننگ کی ہدایت دی۔
انہوں نے کہا کہ جھیل کے موجودہ پانی کو پہاڑی آبشار کی شکل میں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے پارک کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا اور سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق منصوبے کے ابتدائی خدوخال پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
شہری پارکس اور سیاحت کے فروغ پر توجہ
پنجاب حکومت حالیہ برسوں میں شہری پارکس، گرین ایریاز اور تفریحی مقامات کی بہتری پر توجہ دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے منصوبے:
- مقامی سیاحت کو فروغ دیتے ہیں
- شہری ماحول بہتر بناتے ہیں
- خاندانوں کیلئے تفریحی سہولیات فراہم کرتے ہیں
- مقامی معیشت میں بہتری لا سکتے ہیں
اگرچہ مصنوعی آبشار کا منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم مقامی سطح پر اس تجویز کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔
گرلز ہائی سکول سانگلہ ہل کا دورہ اور طالبات سے ملاقات
کمشنر لاہور نے گرلز ہائی سکول سانگلہ ہل کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے طالبات سے انٹرایکٹو سیشن کیا۔ اس موقع پر تعلیمی ماحول، صفائی اور سکول سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے طالبات سے تعلیمی سرگرمیوں، امتحانات اور سکول مسائل سے متعلق گفتگو کی۔ سکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ طالبات کیلئے محفوظ اور صاف تعلیمی ماحول یقینی بنایا جائے۔
تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیلڈ وزٹس سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ سرکاری سکولوں میں سہولیات کی بہتری کیلئے فوری فیصلے بھی ممکن ہوتے ہیں۔
مون سون سیزن سے قبل نکاسی آب منصوبوں کو مکمل کرنے کی ہدایت
کمشنر لاہور مریم خان نے جاری سٹارم واٹر ڈرینز منصوبوں کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مون سون سیزن سے قبل تمام منصوبے مقررہ ڈیڈ لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ بارشوں کے دوران شہری اور دیہی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔
مون سون تیاریوں کیلئے اہم اقدامات

انتظامیہ کی جانب سے درج ذیل اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے:
- سیوریج لائنوں کی بروقت صفائی
- سٹارم واٹر ڈرینز کی تعمیر مکمل کرنا
- نشیبی علاقوں کی مانیٹرنگ
- ہنگامی ٹیموں کی دستیابی
- بارش کے پانی کی فوری نکاسی
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پنجاب میں شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث انفراسٹرکچر اور نکاسی آب کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہو گیا ہے۔
پنجاب حکومت کی فیلڈ مانیٹرنگ مہم جاری
پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع میں جاری فیلڈ وزٹس کا مقصد عوامی سہولیات، صفائی، صحت اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی براہ راست نگرانی کرنا ہے۔ کمشنر لاہور کے حالیہ دورے کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں ترقی، بہتر صفائی، موثر نکاسی آب اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں جبکہ مون سون سے قبل تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
پنجاب میں صفائی، سیوریج اور مون سون منصوبوں پر کمشنر لاہور مریم خان کے دورے کی مکمل تفصیل پڑھیں۔
صحت
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی: تشویشناک صورتحال
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس نے صحت کے ماہرین اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر جاری تازہ رپورٹ کے مطابق یہ بیماری تیزی سے عوامی صحت کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
عالمی رپورٹ کے اہم انکشافات
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت اور چین مل کر دنیا بھر میں اس بیماری کے تقریباً 39 فیصد بوجھ کے ذمہ دار ہیں۔
مزید یہ کہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کے باعث ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور مجموعی اموات کا تقریباً 58 فیصد انہی ممالک میں رپورٹ ہوا۔
اموات اور بیماری کا عالمی منظرنامہ

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے بڑھتے کیسز عالمی رجحان کا بھی حصہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق:
- سال 2024 میں دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس بی اور سی سے 13 لاکھ 40 ہزار اموات ہوئیں
- یہ دونوں بیماریاں دنیا کی مہلک ترین بیماریوں میں شمار ہوتی ہیں
- انفیکشن کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں
بیماری کے پھیلاؤ کی وجوہات
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کی کئی اہم وجوہات ہیں:
- غیر محفوظ خون کی منتقلی
- غیر معیاری سرنجز اور طبی آلات کا استعمال
- حجاموں اور کلینکس میں صفائی کے ناقص انتظامات
- عوام میں آگاہی کی کمی
یہ عوامل بیماری کے تیزی سے پھیلنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
صحت کے نظام پر دباؤ

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے بڑھتے کیسز نے صحت کے نظام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ علاج کی سہولیات اور وسائل محدود ہیں۔
ماہرین کی سفارشات
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں:
- اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کے عمل کو وسیع کیا جائے
- محفوظ طبی طریقہ کار کو یقینی بنایا جائے
- عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے
- ویکسینیشن اور علاج تک رسائی آسان بنائی جائے
عوامی اثرات
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی نہ صرف صحت بلکہ معاشی اور سماجی مسائل بھی پیدا کر رہا ہے۔ بیماری کے باعث مریضوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور علاج کے اخراجات خاندانوں پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔
نتیجہ
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی رپورٹ نے اس خطرے کو واضح کر دیا ہے، اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مؤثر حکمت عملی کے ذریعے اس بیماری کو کنٹرول کیا جائے۔
صحت
بہاولپور: اوچ شریف میں فوڈ پوائزننگ سے دو بچوں کے بعد والد بھی جاں بحق
بذریعہ
اسد قاضی
اوچ شریف میں افسوسناک واقعہ، ایک ہی خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے
بہاولپور کے علاقے اوچ شریف میں فوڈ پوائزننگ کے ایک افسوسناک واقعے میں دو بچوں کی موت کے بعد ان کے والد بھی انتقال کر گئے، جس سے پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا ہے۔
ایس این این نیوز کی بیورو چیف پاکستان شمائلہ اسلم کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ہی خاندان کے افراد نے مبینہ طور پر گھر میں آلودہ یا خراب کھانا کھایا، جس کے بعد ان کی حالت تیزی سے خراب ہونا شروع ہو گئی۔
ابتدائی علامات اور صورتحال
متاثرہ افراد میں ابتدا میں عام فوڈ پوائزننگ جیسی علامات ظاہر ہوئیں، جن میں شامل تھیں:
- شدید پیٹ درد
- الٹی اور متلی
- جسم میں کمزوری
- تیزی سے پانی کی کمی
- فوڈ پوائزننگ
اہلِ علاقہ کے مطابق بچوں اور والد کی حالت چند گھنٹوں میں بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
دو بچوں کی موت کے بعد والد کا انتقال

طبی امداد کے باوجود دو کم عمر بچوں کو بچایا نہ جا سکا اور وہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔ اس دلخراش واقعے نے خاندان اور علاقے کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔
بعد ازاں بچوں کے والد بھی اسی طبی پیچیدگی کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان کی حالت پہلے ہی انتہائی نازک تھی۔
ممکنہ وجہ اور فوڈ پوائزننگ کے خدشات
طبی ماہرین کے مطابق فوڈ پوائزننگ عموماً درج ذیل وجوہات سے ہوتی ہے:
- خراب یا آلودہ کھانا
- غیر محفوظ پانی کا استعمال
- خوراک کی غلط اسٹوریج
- بیکٹیریا یا جراثیم کی آلودگی
- فوڈ پوائزننگ
اگر بروقت علاج نہ ملے تو یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں اور کمزور افراد کے لیے۔
علاقے میں غم و غصہ اور تشویش

اوچ شریف اور بہاولپور کے مقامی لوگوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک ہی گھر سے تین اموات نے عوامی سطح پر فوڈ سیفٹی اور صحت کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی شہریوں کے مطابق ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ:
- کھانے کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے
- خراب یا مشکوک خوراک استعمال نہ کی جائے
- فوری طبی امداد کو یقینی بنایا جائے
- فوڈ پوائزننگ
فوڈ پوائزننگ اور عوامی صحت کا مسئلہ

پاکستان کے مختلف علاقوں میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب خوراک جلد خراب ہو جاتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق آگاہی کی کمی اور دیر سے علاج ایسے واقعات کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔
حکام سے کارروائی کا مطالبہ
واقعے کے بعد مقامی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
- واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں
- ممکنہ آلودگی کے ذریعے کی نشاندہی ہو
- خوراک کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں
- اسپتالوں میں ایمرجنسی سہولیات بہتر بنائی جائیں
- فوڈ پوائزننگ
اختتامی صورتحال
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فوڈ سیفٹی اور فوری طبی امداد کتنی اہم ہے۔ اوچ شریف میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کی موت نے علاقے میں خوف اور دکھ کی فضا پیدا کر دی ہے۔
بہاولپور فوڈ پوائزننگ واقعہ کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں
-
صحت2 months agoپاکستان میں ہیپاٹائٹس سی: تشویشناک صورتحال
-
کاروباری خبریں3 months agoپاکستان میں بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، 8 ماہ میں مالی دباؤ میں نمایاں شدت
-
سیاسی خبریں3 months agoعالمی “صمود فلوٹیلا” کا غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی مشن کا اعلان
-
تفریح3 months agoوزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی عید کی خوشیوں کا باہمی تبادلہ
-
سیاسی خبریں3 months agoعلی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا نوٹ سامنے آگیا: زندگی اور خدمت پر عکاسی
-
کھیلوں کی خبریں3 months agoکنڈیارو میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں نیا انڈور بیڈمنٹن کورٹ قائم
-
کاروباری خبریں3 months agoبھاٹی چوک انڈر پاس لاہور: تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت
-
سیاسی خبریں3 months agoپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا
Pingback: عبدالکریم کی زیرصدارت محرم سکیورٹی کانفرنس لاہور میں