اہم خبریں
نارمل پاسپورٹ 14 دن میں: شہریوں کیلئے بڑی سہولت
نارمل پاسپورٹ 14 دن میں فراہم کرنے کا فیصلہ حکومت نے عوامی سہولت کے پیش نظر کیا ہے۔ اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران اس اہم اقدام کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد پاسپورٹ کے حصول کے عمل کو تیز اور آسان بنانا ہے۔
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی، جبکہ وزیر مملکت طلال چوہدری اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں پاسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات دینے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
پاسپورٹ کے اجراء کا نیا نظام
نارمل پاسپورٹ 14 دن میں جاری کرنے کے فیصلے کے تحت:
- پہلے پاسپورٹ کی فراہمی میں 21 دن لگتے تھے
- اب یہ مدت کم کر کے 14 دن کر دی گئی ہے
- اس تبدیلی سے درخواست دہندگان کو فوری ریلیف ملے گا
حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ نظام کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔
کیش لیس ادائیگی کا نفاذ

نارمل پاسپورٹ 14 دن میں فراہم کرنے کے ساتھ پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس نظام نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
- آئندہ 15 دن میں کیش ادائیگی ختم کی جائے گی
- تمام فیس ڈیجیٹل ذرائع سے وصول کی جائے گی
- شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہوگا
وزیر داخلہ کے مطابق اس اقدام سے غیر ضروری مداخلت اور ایجنٹ کلچر کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
بزنس پاسپورٹ پر پیش رفت
اجلاس میں بزنس پاسپورٹ کے اجرا سے متعلق امور کو بھی زیر غور لایا گیا۔ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ اس منصوبے کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ کاروباری افراد کو جدید سہولت فراہم کی جا سکے۔
ہوم ڈلیوری سسٹم میں بہتری
نارمل پاسپورٹ 14 دن میں جاری کرنے کے ساتھ پاسپورٹ کی گھروں تک فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
- شہریوں کو دفاتر کے چکر کم لگانے ہوں گے
- ڈلیوری کے عمل کو تیز اور محفوظ بنایا جائے گا
پاسپورٹ اتھارٹی کا قیام
وزیر داخلہ نے پاسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک خودمختار پاسپورٹ اتھارٹی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی اور خدمات کا معیار بلند ہوگا۔
عوامی فائدے
نارمل پاسپورٹ 14 دن میں جاری ہونے سے شہریوں کو کئی فوائد حاصل ہوں گے:
- وقت کی بچت
- تیز سروس
- شفاف نظام
- ڈیجیٹل سہولیات تک آسان رسائی
نتیجہ
نارمل پاسپورٹ 14 دن میں فراہم کرنے اور کیش لیس نظام کے نفاذ کا فیصلہ ایک اہم اصلاحاتی قدم ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے۔