اہم خبریں

لاہور گرین پاکستان انیشیٹو اور پی ایف ایم اے کے درمیان گندم ذخائر و سپلائی پر اہم مشاورت

Published

on

لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس،

لاہور میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (PFMA) کے مرکزی دفتر میں گرین پاکستان انیشیٹو (GPI) کے چیف کوآرڈینیٹر کمانڈر (ر) میجر جنرل شاہد نذیر نے اپنے وفد کے ہمراہ اہم دورہ کیا۔ اس موقع پر سابق مرکزی چیئرمین پی ایف ایم اے اور گروپ لیڈر عاصم رضا احمد نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔

اجلاس میں ملک میں رواں سال گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر، اور آئندہ کے لیے سپلائی چین کے استحکام پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں کون کون شریک ہوا؟

اس اہم ملاقات میں متعدد سینئر اراکین نے شرکت کی، جن میں شامل تھے:

  • سابق چیئرمین پنجاب برانچ میاں ریاض
  • ملک طاہر
  • ڈپٹی چیئرمین عامر رفیق
  • سید اعجاز علی شاہ

شرکاء نے گندم کے ذخیرہ، ترسیل اور مارکیٹ استحکام کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

10 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ منصوبہ زیر بحث

اجلاس کے دوران پنجاب میں گرین پاکستان انیشیٹو (GPI) کی جانب سے مجوزہ 10 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کے منصوبے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ قریبی مشاورت کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے تاکہ:

  • گندم کی محفوظ ذخیرہ اندوزی یقینی بنائی جا سکے
  • سپلائی چین میں خلل نہ آئے
  • مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے
  • لاہور گرین پاکستان انیشیٹو

میجر جنرل شاہد نذیر کا مؤقف

میجر جنرل شاہد نذیر نے اس موقع پر کہا کہ پی ایف ایم اے کے ساتھ ہونے والی مشاورت انتہائی مثبت اور مفید رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے روابط جاری رکھے جائیں گے تاکہ ملک میں گندم کے مؤثر ذخیرہ اور بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

عاصم رضا احمد کا تعاون کی یقین دہانی

سابق چیئرمین پی ایف ایم اے اور گروپ لیڈر عاصم رضا احمد نے گرین پاکستان انیشیٹو (GPI) کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم قومی مفاد کے ہر منصوبے کے لیے دستیاب ہے اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔

زرعی معیشت کے لیے اہم پیش رفت

ماہرین کے مطابق یہ ملاقات پاکستان کی زرعی معیشت اور خاص طور پر گندم کی سپلائی چین کے استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔

گندم پاکستان کی بنیادی خوراکی ضرورت ہے، اور اس کی بروقت دستیابی اور ذخیرہ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس طرح کے اجلاس نہ صرف پالیسی سازی میں مدد دیتے ہیں بلکہ حکومتی اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ:

  • گندم کے ذخائر کو جدید نظام کے تحت محفوظ بنایا جائے
  • فلور ملز اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہو
  • سپلائی چین میں شفافیت اور توازن برقرار رکھا جائے

نتیجہ

لاہور میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان میں گندم کے شعبے میں تعاون اور پالیسی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال قرار دی جا رہی ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹو اور پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان یہ اشتراک مستقبل میں خوراکی تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

“گرین پاکستان انیشیٹو اور زرعی شعبے کی مزید تازہ خبریں ہماری ویب سائٹ پر پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version