Politics

ایران امریکہ معاہدہ: صدر پزشکیان کا بیان

Published

on

ایران امریکہ معاہدہ کے حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کو اپنا “آمریت پسند رویہ” ترک کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں برابری اور باہمی احترام کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔

سوشل میڈیا پر اہم پیغام

صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر امریکی حکومت اپنی بالادستی کی پالیسی چھوڑ دے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور یکطرفہ فیصلوں سے گریز کیا جائے۔

مذاکراتی ٹیم کی تعریف

ایران امریکہ معاہدہ پر بات کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے اپنی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے ٹیم کے اراکین کی محنت کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قومی مفاد کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر اپنے قریبی ساتھی ڈاکٹر قالیباف کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سفارتی تعلقات اور ممکنہ پیش رفت

ماہرین کے مطابق ایران امریکہ معاہدہ کے حوالے سے صدر پزشکیان کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ برابری اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ پیش رفت کی منتظر ہے۔

نتیجہ

ایران امریکہ معاہدہ کے حوالے سے صدر پزشکیان کا مؤقف واضح کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن وہ اپنی شرائط پر بات چیت چاہتا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: ایران مذاکرات غیر معقول قرار دینے کی مکمل تفصیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version