قومی خبریں

مفت عمرہ کا لالچ، سعودی جیل میں قیدی خاتون انور بی بی چل بسیں

Published

on

از اسامہ زاہد

فیصل آباد کی رہائشی انور بی بی، جنہیں مفت عمرے کے نام پر دھوکہ دے کر سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں قید کیا گیا تھا، خاندان کے مطابق جیل ہی میں دم توڑ گئیں۔ ان کی میت وطن واپس پہنچا دی گئی ہے، جس نے اس پرانے کیس کو ایک بار پھر خبروں کا موضوع بنا دیا ہے۔

معاملہ کیسے شروع ہوا

تقریباً دو برس قبل جڑانوالہ، فیصل آباد کے پانچ افراد — جن میں انور بی بی، ضیارت بی بی اور دیگر تین ساتھی شامل تھے — کو ایک گروہ نے مفت عمرہ کروانے کا جھانسہ دیا۔ ان میں ایک خاندان کا فرد اور علاقے کی مسجد کے امام اپنی زوجہ سمیت شامل تھے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ملزمان نے سفر سے قبل انہیں تحفے کے طور پر بیگ تھمائے، جن کے اندر خفیہ طور پر آئس (کرسٹل میتھ) چھپائی گئی تھی۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر یہ سامان کسی رکاوٹ کے بغیر روانہ ہو گیا، البتہ جدہ اترتے ہی سعودی سکیورٹی حکام کی جانچ پڑتال میں منشیات پکڑی گئیں۔

سزا اور دو سالہ اسیری

گرفتاری کے بعد سعودی عدالت نے پانچوں مسافروں کو 25 برس قید کی سزا سنائی، اور تب سے وہ جدہ کی ایک جیل میں بند ہیں۔ پاکستانی حکام نے نومبر 2024 میں اس واقعے پر تحقیقات کا آغاز کیا، اور اگلے سال جنوری میں ایک مقامی زمیندار سمیت تین ملزمان کو سہولت کاری کے الزام میں نامزد کیا — تاہم ملزمان اپنی بےگناہی پر مصر ہیں۔

انور بی بی کی وفات کی اطلاع

خاندان کے مطابق انور بی بی سعودی جیل میں انتقال کر گئیں اور ان کا جسدِ خاکی تابوت میں پاکستان بھیجا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ خبر تاحال کسی سرکاری یا آزاد نیوز ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں، اس لیے قارئین محتاط رہیں۔ متاثرہ خاندان مسلسل حکومتی سطح پر رابطے کی درخواست کرتے رہے تاکہ بےقصور قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔

اہم نکات

  • فیصل آباد کی انور بی بی سمیت 5 افراد کو مفت عمرہ کے نام پر سعودی عرب بھیجا گیا
  • تحفے کے سامان میں پوشیدہ طریقے سے منشیات رکھوائی گئیں، انکشاف جدہ ایئرپورٹ پر ہوا
  • سعودی عدالت نے سب کو 25 سال قید کی سزا سنائی
  • خاندان کے مطابق انور بی بی جیل میں وفات پا گئیں، میت وطن پہنچی (غیر مصدقہ)
  • تین مبینہ سہولت کاروں کو ایف آئی اے نے نامزد کیا ہے

اکثر پوچھے گئے سوالات

انور بی بی کا تعلق کہاں سے تھا؟
فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ سے۔

انہیں کیوں سزا ہوئی؟
مفت عمرے کے فراڈ میں غیر ارادی طور پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر۔

سزا کتنی سنائی گئی؟
رپورٹس کے مطابق 25 برس قید۔

کیا وفات کی خبر تصدیق شدہ ہے؟
نہیں، ابھی صرف خاندان کے حوالے سے ہے، آزاد ذریعے سے تصدیق باقی ہے۔

باقی قیدیوں کا مستقبل کیا ہے؟
حکومت سے سفارتی مداخلت کی اپیلیں جاری ہیں، حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

باقی قیدیوں پر اثرات

اس افسوسناک خبر نے دیگر قید افراد کے لواحقین میں خوف و تشویش پیدا کر دی ہے۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ بروقت سفارتی کوششوں سے شاید یہ سانحہ ٹل سکتا تھا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر مفت عمرہ کے نام پر دھوکہ دہی کے بڑھتے رجحان کی طرف توجہ دلاتا ہے، جس سے بچنے کی تلقین پاکستانی حکام پہلے بھی کر چکے ہیں۔

مفت عمرہ فراڈ سعودی جیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version