بین الاقوامی خبریں,
ایران نے امریکہ سے مذاکرات معطل، لبنان انخلاء شرط
از اسامہ زاہد
تہران نے واشنگٹن سے مذاکرات روک دیے
تہران نے موقف اختیار کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی سطح کی بات چیت اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے نہ ہٹ جائیں اور ہر محاذ پر لڑائی کا خاتمہ نہ ہو جائے۔
یہ فیصلہ تہران کی سفارتی مصروفیت کو اسرائیل کی علاقائی فوجی کارروائیوں سے براہ راست مشروط کرتا ہے۔
مذاکرات کی بحالی کے لیے دو واضح شرائط
ایران نے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے سے پہلے دو غیر مشروط شرائط رکھی ہیں۔
پہلی شرط یہ ہے کہ اسرائیل لبنان سے مکمل فوجی انخلاء کرے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ غزہ سمیت تمام محاذوں پر جنگ بند ہو۔
ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کے جاری رہنے کی صورت میں اس کا ردعمل ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ شدید اور فیصلہ کن نوعیت کا ہوگا۔
تہران نے واضح خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
یہ انتباہ ایران کی جانب سے اب تک کے سب سے واضح اور براہ راست بیانات میں سے ایک ہے۔
تہران کا الزام: امریکہ مذاکرات کو اسرائیل کے لیے وقت خریدنے کے لیے استعمال کر رہا ہے
ایران کو گہرا شبہ ہے کہ واشنگٹن ان مذاکرات کو اسرائیل کو فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے وقت فراہم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
یہ الزام امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے کشیدہ سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
پس منظر: امریکہ ایران مذاکرات کا موجودہ مرحلہ
حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔
لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدت میں اضافے نے اب ان مذاکرات کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں