نیپرا سولر پالیسی 2026 کے تحت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر اور دیگر پروزیومر صارفین کے لیے قواعد میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔ جاری کردہ ایس آر او 547(1) 2026 کے مطابق بلنگ اور نرخوں کے نظام میں بنیادی ترمیم کی گئی ہے، جس کا اطلاق 9 فروری 2026 سے مؤثر تصور کیا جائے گا۔
یہ اقدام توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات لاکھوں صارفین پر پڑ سکتے ہیں۔

نیپرا سولر پالیسی 2026 کے مطابق:
یہ نکتہ خاص طور پر موجودہ سولر صارفین کے لیے اہم ہے جو اپنے سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کوئی صارف اپنے سولر سسٹم کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے یا کسی بھی قسم کی بڑی تبدیلی کرتا ہے تو وہ پرانی بلنگ سہولت اور نرخوں سے محروم ہو جائے گا۔
نیپرا سولر پالیسی 2026 کے تحت اس شق کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ صارفین کے مستقبل کے فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہوگی۔
ماہرین کے مطابق نیپرا سولر پالیسی 2026 کے بعد کئی اہم تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں:
یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس فیصلے سے سولر انرجی کے فروغ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق نیپرا سولر پالیسی 2026 میں یہ ترمیم الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 کے تحت کی گئی ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نظام کو زیادہ منظم، شفاف اور یکساں بنانا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
ماہرین صارفین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ:
نیپرا سولر پالیسی 2026 توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔ اگرچہ اس کا مقصد نظام کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے، تاہم صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: مہنگائی پاکستان اور توانائی کے بڑھتے اخراجات کی مکمل رپورٹ